16 december 1971

آرمی پبلک سکول پر حملے کو چار سال مکمل

پاکستان (یواےای اردو) پشاور میں آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے کو چار برس مکمل ، مختلف شہروں میں شہداء کے لیے دعائیہ تقریبات،

پشاور کے ورسک روڈ پر قائم آرمی پبلک سکول پر مسلح شدت پسندوں نے 16 دسمبر 2014 کو حملہ کر کے طلبہ، اساتذہ اور عملے کے ارکان کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں 147 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ شہداء میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی.

حملہ آور سکول کی عقبی دیوار پھاند کر سکول کے آڈیٹوریم میں داخل ہوئے تھے اور اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس حملے میں کچھ بچوں کو بےدردی سے قتل کیا گیا اور حملہ آور ظالمانہ کھیل کھیلتے رہے، جب کہ ایک خاتون ٹیچر کو آگ لگا دی گئی تھی جس نے حملہ آوروں کو بچوں کی جانب بڑھنے سے روکا تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔

دہشگردوں نے خونی کھیل کھیلنےکے لیے 16 دسمبر کا دن چنا جو کہ سقوط ڈھاکہ کے باعث پاکستان کی تاریخ میں سیاہ دن کی حیثیت رکھتا ہے.

اعلی عدلیہ نے اس سانحے کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا تھا جو حملے کے چار سال بعد اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کرنے والا ہے۔

تاہم شہید بچوں کے والدین اب بھی مایوس ہیں، اور سوال کرتے ہیں کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں اب بھی کسی کو جوابدہ نہیں ہیں اور نہ ہی آج تک کسی کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آئی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں