urdu columnist

عمران خان کی ناکامی کس کی ناکامی ہے!

ارشد فاروق بٹ
ہمارے لیڈر بھی آن لائن شاپنگ کی طرح ناقابل بھروسہ ہیں، بندہ منگواتا کچھ ہے اور نکلتا کچھ ہے۔بادل نخواستہ خوبصورتی سے پیک کیا ہوا بنڈل کھولنا پڑتا ہے اور اپنی قسمت کو کوستے ہوئے رکھنا پڑتا ہے۔ لیکن حد ہوتی ہے لٹنے کی بھی، کیا ساری عمر لٹتے ہی رہیں گے؟
یہ سوال متواتر پوچھا جا رہا ہے کہ کیا وزیر خزانہ اسدعمرکی ناکامی حکومت کی ناکامی ہے؟ روپے کی رہی سہی قدر ڈھیر ہونے اور پٹرول و ڈالر کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کس طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ لیکن کیا یہ سب نیا ہے؟ کیا پچھلی حکومتوں میں یہ سب نہیں ہوتا رہا؟
کسی ملک کا انتظام و انصرام اتنا سادہ نہیں ہوتا کہ کسی وزیر کے استعفے یا اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے کارکردگی کی جانچ مکمل ہو جائے۔لیکن کشتی میں سوراخ ہو جائیں تو نیا ڈوبتی ہی ڈوبتی ہے اگر بروقت اس کی مرمت نہ کی جائے۔
حکومتی صفوں میں مایوسی کی کیفیت ہے، حواس باختہ وزراء باتوں ہی باتوں میں کروڑوں درخت لگا رہے ہیں، کروڑوں نوکریاں پیدا کر رہے ہیں اور کروڑوں گھر مہیا کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ نے سب کچھ کتنا آسان کر دیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کو ناکامی سے اب کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ انکے باس بھی پریشان ہیں. ہمیں خوش گمانی رکھنی چاہئے لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں ان کی نیت پہ شک نہیں۔ لیکن ملک کسی ایک انسان کی نیت سے نہیں چلا کرتے۔
عمران خان کی ناکامی کسی ایک فرد کی ناکامی نہیں، ان کی ناکامی ایمپائر، عوام اور ملک پاکستان کی مشترکہ ناکامی ہے۔ ایمپائر کب تک ملک کو تجربات کی بھینٹ چڑھاتے رہیں گے؟ عوام کب تک شخصیت پرستی کے قائل رہیں گے؟ اور بے چارہ پاکستان کب تک لاوارث رہے گا۔
عوام کو سمجھنا ہو گا کہ فلسفے کا ماہر کوئی ارسطو اس ٹیکنالوجی کے دور میں ملک نہیں چلا سکتا۔ ملک چلانے کے لیے ادارے مضبوط ہونا ضروری ہیں اور ناقابل شکست نظام ضروری ہے۔ کسی دفتر میں کوئی کلرک بھرتی کرنا ہو تو اس کے لیے بھی متعلقہ مہارت چیک کی جاتی ہے، لیکن جس نے ملک چلانا ہو اس کے لیے نہ ڈگری ضروری ہے نہ متعلقہ مہارت۔ بس اس بھلے انسان کو بیوقوف بنانے کا ہنر آتا ہو۔ لیکن اس بوسیدہ نظام کو ختم کرنا ہوگا۔
اس وقت تمام ادارے واضح طور پر یرغمال ہیں، وہی عدلیہ جو تاریخ کے طاقتور وزیراعظم کو سزا سنا سکتی ہے، لاپتہ افراد ، مشرف کیس اورسانحہ ساہیوال پر خاموش ہے۔ یہ ہے انصافی حکومت کی کشتی میں پہلا بڑا سوراخ۔ باقی مسائل تو ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔
انصاف کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے والی جماعت کو عدل وانصاف سے کوئی سروکارنہیں، نتیجتا عوام کو حکومت سے کوئی سروکار نہیں، ہو سکتا ہے مستقبل قریب میں وزیراعظم عمران خان ہٹلر کی طرح ماتحتوں کا رونا روتے باغ عدم سدھار جائیں لیکن۔
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

 

عمران خان کی ناکامی کس کی ناکامی ہے!” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں