asia case in urdu

‘آسیہ غنڈوں میں پھنس گئی’

ارشد فاروق بٹ
رضیہ کے غنڈوں میں پھنس جانے کی کہاوت زبان زد عام ہے، لیکن ایک مزاح نگار نے موقعے کی مناسبت سے اس میں تحریف کر کے آسیہ لکھ دیا. اور یہ غنڈے سیاسی ہیں.
آسیہ بی بی کی سپریم کورٹ سے رہائی کے بعد سے ملک میں ایک طوفان بدتمیزی برپا ہے. ملک کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس نے صورت حال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے فیصلہ اردو میں تحریر کیا اور مختصر مگر جامع کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اختصار کے ساتھ سات پوائنٹس میں ان وجوہات کا تذکرہ کیا جن کی وجہ سے آسیہ بی بی بے قصور ٹھہری.
لیکن کیا کریں، فیصلوں کو کون پڑھتا ہے؟ وجوہات کو کون مانتا ہے؟ ہمیں تو بس پھانسی چاہئے. چاہے وہ بے گناہ ہی کیوں نہ ہو.
سوشلستان پر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان اس رہائی کے بعد بحث مباحثے اور گالم گلوچ شدت اختیار کر گئی ہے. فیس بک پر برسوں پرانے دوست ایک دوسرے کو انفرینڈ کر کے بلاک کر رہے ہیں.
ایسا نہیں ہے کہ اس موضوع پر کسی سیاستدان نے لب کشائی نہیں کی. آسیہ بی بی کی رہائی کے بعد سب سے پہلے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عدلیہ کے فیصلے کو سراہا. لیکن کیا کریں ان کا تعلق مسلم لیگ ن یا تحریک انصاف سے نہیں ہے. اس لیے کسی کارکن نے اپنی توپوں کا رخ ادھر نہیں کیا. گولہ باری کے لیے آپ کا تعلق مسلم لیگ ن یا پی ٹی آئی سے ہونا ضروری ہے.
دونوں سیاسی جماعتوں کے کارکنان اس کیس کو کیسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، آئیے اس کی ایک جھلک دیکھتے ہیں. یہاں تمام پوسٹس شیئر کرنا ممکن نہیں اس لیے ایک عنوان پر ایک ہی تصویر لگائی جا رہی ہے.
asia bibi case
حب علی سے زیادہ بغض معاویہ پر مبنی ایسی پوسٹس سے سوشلستان بھرا پڑا ہے اور جب تک کوئی نیا مسئلہ کھڑا نہیں ہوتا یہ چلتا رہے گا. پی ٹی آئی کے کارکنان بھی اپنے خان کے دفاع میں گھمسان کی جنگ لڑ رہے ہیں. ہاتھیوں کی لڑائی میں نقصان گھاس کا ہی ہوتا ہے. دیکھ لیجئے.
asia bibi
عمران خان کے گزشتہ رات کے خطاب کے بعد تحریک لبیک کا فوج کے ساتھ مبینہ ہنی مون پیریڈ ختم ہو گیا ہے. دن کو واجب القتل اور بغاوت کی باتیں کرنے والے تحریک لبیک کے لیڈران رات کو خاصے فکرمند نظر آئے.
حسب سابق آج جلاؤ گھیراؤ جاری ہے، راستے سنسان ہیں، گاڑیاں سڑکوں پر نہیں آ رہیں، جو آ رہی ہیں جلائی جا رہی ہیں. موٹر سائیکل رکشے، کاریں اور ویگنیں نذر آتش کی جارہی ہیں اور یہ سب کچھ اسلام اور عشق نبی کے نام پر ہو رہا ہے جنہوں نے اپنے اوپر کوڑاکرکٹ پھینکنے والی عورت کی بھی بیمار پرسی کی.
ذرا سوچئے کہ پاکستان میں بسنے والی عیسائی کمیونٹی پر کیا گزر رہی ہو گی. ہم اقلیتوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ یقینا وہ گھروں میں دبکے بیٹھے ہوں گے کہ کب کوئی عشق کا مارا ان کا گھر جلادے.
ایک آسیہ بی بی اور پورا ملک اسے جائز ناجائز پھانسی کے پھندے پر پہنچانے پر تلا ہوا ہے، ایک ایسے ملک میں جہاں بازار حسن، کوٹھے، قحبہ خانے شہر شہر موجود ہیں، جہاں شراب، چرس، افیون، ہر گاؤں میں ہر نشئی کی دسترس میں ہے وہاں لگتا ہے کہ اس ایک پھانسی سے ہم سب جنتی ہو جائیں گے.
عدلیہ نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے. یہ فیصلہ کرسٹل کلیئر ہے. ماضی کے فیصلوں کے برعکس اس میں کوئی ابہام نہیں. اب یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ کرے اور شرپسندوں کا محاسبہ کرے.

اپنا تبصرہ بھیجیں