ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا‘اوپن مارکیٹ میں قدر 152روپے سے تجاوز کرگئی

روپے کی بے قدری جاری ہے، ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، پہلی بار ڈالر 152 روپے 50 پیسے کا ر ہوگیا۔ملکی تاریخ میں ڈالر پہلی بار 152روپے 10پیسے کی بلند سطح پر فروخت ہو رہا ہے، انٹر بینک میں کاروبار کے دوران ڈالر کی قیمت میں اب تک 54پیسے کا اضافہ ہوچکاہے۔ اوپن مارکیٹ میں تو ڈالراوربھی مہنگا ہوچکا ہے،ڈالرکی قیمت میں 50پیسے اضافہ ہوا،جس کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت فروخت 152روپے 50پیسے پر پہنچ گئی ہے.
تفصیلات کے مطابق انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے‘بدھ کو انٹر بینک میں ڈالر کی قدر 35 پیسے اضافے کے بعد 151 روپے 57 پیسے ہوگئی تھی، روپے کی بے قدری کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری ہے اور انٹر بینک میں ٹریڈنگ کے دوران ڈالر اب تک مزید 73 روپے بڑھ چکا ہے۔
جس کے بعد ڈالر کی قدر 152 روپے 70 پیسے تک جاپہنچی ہے.
واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں 10 روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے. کرنسی ڈیلز نے ڈالر کی قدر ے میں اضافے کو مالی سال کے اختتام کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے‘ان کے مطابق مالی سال کے اختتام کی تاریخ 30 جون قریب پہنچ رہی اور ساتھ ہی ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنا تمام مناقع ملک سے باہر بھیج رہی ہیں. خیال رہے کہ عید الفطر کی چھٹیوں سے قبل بھی انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کا رجحان دیکھا گیا تھا.
انٹر بینک میں امریکی ڈالر 75 پیسے مہنگا ہو کر 148.90 روپے کا ہوگیا تھا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 30 پیسے مہنگا ہوکر 148.80 روپے کا ہوگیا‘کرنسی ڈیلرز نے امید ظاہر کی تھی کہ عید کی تعطیلات کے بعد انٹر بینک مارکیٹ میں بھی ڈالر کی طلب کم ہوگی اور وہ کمرشل امپورٹرز جو قیمت میں بہت زیادہ اتار چڑھاو کی وجہ سے ڈالر کی ہی جنگ کر رہے ہیں وہ بھی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے جس سے انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی طلب کم ہوجائے گی اور اس کے اثرات اس کی قیمت پر بھی پڑیں گے.
یہ امرقابل ذکر ہے کہ رواں برس مئی میں انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی دیکھی گئی تھی، جہاں ڈالر 2 روپے 10 پیسے کمی کے بعد 148.20 رو پے کا ہوگیا تھا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 148.50 روپے پر آگیا تھا.

اپنا تبصرہ بھیجیں