Girls waiting at Dubai Airport

کیا پروازوں کی معطلی کے دوران ٹکٹ بک کرانا چاہیے؟

دبئی ( یو اے ای اردو – 23 جولائی 2021 – ارشد فاروق بٹ) متحدہ عرب امارات کی قومی ایئر لائنز کی جانب سے پاکستان سے مسافر پروازوں کی معطلی کی تاریخ میں بار بار توسیع کی جا رہی ہے۔ ایسے میں ٹریول ایجنسیوں نے پاکستانی مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس وقت تک ایئرلائنز کی ٹکٹ بکنگ سے گریز کریں جب تک کہ متحدہ عرب امارات کے حکام مسافر پروازوں کی بحالی کے لئے حتمی تاریخ اور طریقہ کار جاری نہیں کردیتے۔

تفصیلات کے مطابق جب سے متحدہ عرب امارات نے وبائی مرض کوویڈ 19 کی وجہ سے مسافر پروازیں معطل کی ہیں تب سے ہزاروں ویزہ ہولڈرز اور تارکین وطن اس وقت ہندوستان ، پاکستان ، نیپال ، بنگلہ دیش ، جنوبی افریقہ اور سری لنکا جیسے ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کچھ مسافر ایسے ہیں جنہوں نے وزٹ ویزے لیے تھے اور وہ مسافر پروازوں پر پابندی کے باعث دبئی نہ آ سکے اور اسی اثنا میں انکے ویزے ایکسپائر ہو گئے۔ جبکہ کچھ تارکین وطن کو اپنے آبائی ملکوں میں پھنسے چھ ماہ سے زائد ہوگئے ہیں اور وہ پریشان ہیں کہ ان کا ویزہ کینسل تو نہیں ہو گا۔

اگرچہ متحدہ عرب امارات کی کچھ ہوائی کمپنیوں نے ان پاکستان اور بھارت میں مسافروں کے لئے ٹکٹیں دستیاب کردی ہیں ، لیکن جنرل سول ایوی ایشن اور نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے ابھی تک سفری معطلی کی آخری تاریخ کوفائنل نہیں کیا ہے۔ ایسی صورت حال میں ایئر لائنز پروزوں کے شیڈول میں بار بار تبدیلی کر رہی ہیں۔ اور مسافر بھی ٹکٹ لے کر پریشان ہیں۔

کئی ممالک میں پھنسے ہوئے مسافر متحدہ عرب امارات میں اپنے گھروں اور ملازمت پر واپس جانے کے لئے بے چین اور مایوس ہیں۔ تاہم انہیں یہی مشورہ دیا گیا ہے کہ دیکھو اور انتظارکرو کی پالیسی پر کاربند رہیں۔ جب تک کہ اماراتی حکومت کی جانب سے پالیسی کا اعلان نہیں کر دیا جاتا۔

ٹریول اینجنسیوں نے مشورہ دیا ہے کہ ٹکٹوں کی بکنگ سے قبل واضح ہونا بہتر ہے کہ دبئی حکومت کی پالیسی کیا ہے۔ کیونکہ ہر ایئر لائن کی رقم کی واپسی کی اپنی پالیسی ہے۔ کچھ ایئر لائنز نقد رقم کی واپسی سات ماہ کے بعد کرتی ہیں۔ اس لیے مسافر اپنی رقم پھنسانے سے گریز کریں اور مسافر پروازیں کھلنے کا انتظار کریں۔

ایڈیٹر ارشد فاروق

ارشد فاروق
ارشد فاروق بٹ کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ یو اے ای اردو ویب سائٹ پر آپ خبروں کی کیٹیگری اپڈیٹ کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے