Expo 2020 Dubai passport

ایکسپو 2020 دبئی اور پاکستانی پویلین – uae urdu      

دلاور حسین چوہدری ، کشمیر رائٹرز فورم
یوں تو ورلڈ ایکسپو کی تاریخ بہت پرانی ہے جو 170 سال پر محیط ہے پہلا ورلڈ ایکسپو 1851 میں لندن میں منعقد کیا گیا۔

ہر ایکسپو ایک مخصوص تھیم اور مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے منعقد کیا جاتا ہے جس میں پوری دنیا کے ممالک کی ثقافت، سیاحت، کلچر اور انڈسٹریز کو متعارف کرانے کیلئے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا جاتا ہے، جس میں شرکت کرنے والوں کیلئے پوری دنیا کو جاننے اور سمجھنے میں آسانی ہو جاتی ہے اور اپنے سیاحتی اور تجارتی مفادات سے مستفید ہونے کیلئے ملکی طور پر چناؤ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

متذکرہ نقطہ نظر سے پاکستان نے دبئی میں ہونے والے تقریباً ہر ایکسپو میں شرکت کی، نتائج کیا نکلے کہاں تک کامیابی ہوئی، کیا کھویا اور اس کھونے کے نتیجے میں کیا حاصل کیا، اس کے متعلق تو حکومتی فائلیں ہی بتا سکتی ہیں جن تک رسائی ممکن نہیں۔

لیکن اتنا اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان ایک طویل عرصے سے سیاحتی اور تجارتی طور پر دوسرے ممالک سے بہت پیچھے ہے۔ یہاں تک کہ ہم سے ہمیشہ پیچھے رہنے والے انڈیا اور بنگلہ دیش ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں اور نکلتے جا رہےہیں اور ہمارے حکمرانوں نے ایک طویل عرصے سے اپنے مفادات کو فارورڈ اور ملکی اور عوامی مفادات کو ریسورس گئیر لگایا ہوا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری وساری ہے۔

کب تک جاری رہے گا اس پر تجزیہ پیش کرنا اب تک کے حالات کے مطابق بہت مشکل ہے، بات دوسری طرف نکل جائے گی، دراصل ہم نے بات کرنی ہے دوبئی ایکسپو 2020 اور اس میں بنائے گئے پاکستانی پویلین کی۔

دبئی ایکسپو 2020 داراصل اکتوبر 2020 میں منعقد ہونا قرار پایا تھا لیکن کرونا کے ایشوز کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوگئی۔ دبئی کی حکومت کی قابل ستائش کوشش کے بعد یکم اکتوبر 2021 کو اس کا افتتاح کر دیا گیا جس میں اس مرتبہ پاکستان بڑے جوش وخروش سے حصہ لے رہا ہے کہ شاید اس مرتبہ تبدیلی سرکار کی حکومت میں کچھ بہتر نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ نتائج کیا نکلے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا بہر حال جوش وخروش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے پویلین کی کنسٹرکشن پر اس مرتبہ کھلے دل کے ساتھ 30 ملین ڈالر کی رقم خرچ کی گئی جو کہ پاکستانی تقریباً  5.1 ارب روپے بنتے ہیں۔

یہ پویلین 35000 مربع فٹ یعنی تقریباً 6.5 کنال کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور شاید دنیا کے دیگر ممالک کے پویلینز کے مقابلے میں سب سے بڑا قرار دیا جا سکتا ہے اور کنسٹرکشن کے اخراجات کے متعلق جوش و خروش کا اندازہ اس ہندسے سے لگایا جاسکتا ہے کہ محض 1 اسکوائر فٹ جگہ پر تقریباً 145715 روپے خرچ کیے گئے جو ممکن ہے کنسٹرکشن کی دنیا میں بھی پہلے نمبر پر قرار پا جائے۔

میں زاتی طور پر سابقہ ایکسپو میں شرکت کر چکا ہوں جو میں نے ابزرو کیا اس کے مطابق ایکسپو میں  سب سے مشکل ٹارگٹ ہوتا ہے پوری دنیا کے سیاحوں کو اپنے پویلین کی طرف متوجہ کرنا اور راغب کرتے ہوئے پویلین کا مکمل وزٹ کرنے پر نفسیاتی طور پر مجبور کرنا جس کیلئے پویلین کی انٹری پر ملکی ثقافت کو متعارف کرایا جاتا ہے یعنی کچھ ناچ گانے کے لائیو شو منعقد کئیے جاتے ہیں۔ بڑی سکرین کے زریعے صنعتی اور سیاحتی ڈاکومنٹریز چلائی جاتی ہیں، زیادہ سے زیادہ گیدرنگ کی کوشش کی جاتی ہے، لوگ آگے بڑھتے ہیں تو ملکی سٹالوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس میں ہر ملک کے روایتی کھانوں اور چٹخاروں سمیت مختلف صنعتوں ہینڈی کرافٹس سمیت ہر اس چیز کے سٹال موجود ہوتے ہیں جس کو آپ دوسری دنیا میں متعارف کرانا چاہتے ہیں۔ ا

س میں کامیابی اور مثبت نتائج کا دارومدار اداروں اور متعلقہ وزارتوں کی دلچسپی اور کی گئی محنت پر منحصر ہوتی ہے جس میں خاص طور پر وزارت صنعت و تجارت اور وزارت سیاحت کی مخصوص زمہ داری ہوتی ہے۔

یہ ایکسپو 6 ماہ یعنی 31 مارچ 2022 تک جاری رہے گی اس لئے نتائج کیلئے انتظار کرنا پڑے گا، اللہ خیر کرے کیونکہ حکومت نے نتائج حاصل کرنے کیلئے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ بڑے کھلے دل سے خرچ کیا ہے اگر اس رقم میں رننگ کے اخراجات شامل نہیں ہیں تو مزید دل بڑا کرنا ہو گا جو لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کے مزید اخراجات کو ذہن میں رکھنا ہو گا، ویسے روایتی کرپشن کی آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں لیکن اگر نتائج اچھے درآمد ہو جائیں اور عوام کی خوشحالی پر اثرات مرتب ہو جائیں تو سودا مہنگا نہیں ہے۔

حسب سابق تھوڑا بہت ادھر اُدھر ہو جائے تو حسب عادت برداشت کرنا ہو گا، تھوڑی بہت مزید مہنگائی بھی ہو جائے تو برداشت کرنا ہو گی بس گھبرانا نہیں ہے۔

Guest Post on High Authority Website with Dofollow Backlink

ایڈیٹر ارشد فاروق

ارشد فاروق
ارشد فاروق بٹ کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ یو اے ای اردو ویب سائٹ پر آپ ویزہ گائیڈ اور اردو نیوز کی کیٹیگری اپڈیٹ کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے