Tribal leaders in KPK

فاٹا انضمام غیر آئینی اور الگ صوبہ ہی حل ہے، قبائل تحفظ موومنٹ

فاٹا ( یو اے ای اردو – 15 اگست 2021 – امان علی شینواری سے) فاٹا انضمام غیر آئینی ہے۔ قبائلیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ انضمام عجلت میں کیاگیا ہے۔ الگ صوبہ ہی میں قبائلیوں کا فائدہ ہے۔یہ مرجر نہیں مرڈر ہے، پرامن قبائل پاکستان کی ترقی کا ضامن ہے۔26 اگست کو پشاوررنگ روڈ پر لویہ جرگہ ہو گا.

ان خیالات کا اظہار قبائل تحفظ مومنٹ کے مرکزی صدر ابوسفیان محسود، چیف کوارڈینیٹر افرسیاب، سینئر نائب صدر سردار اصغر افریدی، جنرل سیکرٹری داود افریدی اور ضلعی صدر حاجی شیر اسلم نے لنڈ ی کو تل پریس کلب میں "میٹ دی پریس ” میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ قبائل تحفظ مومنٹ اسلئے وجود میں آئی ہے کہ قبائل کافی عرصہ سے ظلم و جبر کا شکار رہے جس سے ان کی زندگیاں عذاب بن گئیں تھیں. اب چونکہ انضمام سے ان کا مزید استحصال ہوا ہے اس لئے ہماری مومنٹ اس انضمام کو مسترد کر تی ہے، کیونکہ اس میں قبائل کے ساتھ دھوکہ کیاگیا ہے.

انہوں نے کہا کہ سرتاج عزیز ریفارمز کمیٹی میں انضمام کا اپشن موجود ہی نہیں تھا اور اس حوالے سے اس وقت سیفران کمیٹی کے چیئر مین عبدالقادر بلوچ کا بیان موجود ہے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نے کمیٹی کو اصلاحات کے لئے بھیجا تھا نہ کہ انضمام کے لئے۔

انہوں نے کہا کہ اصلاحاتی کمیٹی میں چار نکات تھے جس میں الگ صوبہ کا آپشن بھی موجود تھا جو قبائل کے مستقبل کے لئے بہترین آپشن تھا.

انہوں نے کہا کہ قبائل تحفظ مومنٹ قبائل کے لئے الگ صوبہ میں رو شن مستقبل دیکھتی ہے اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ قبائل کے لئے الگ صوبہ دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کے فیصلے خو د کرے.

قبائل کے مسائل کا واحد حل الگ قانون ساز ادارے میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج بھی جرگہ کو سپریم سمجھتے ہیں، اس سلسلے میں ہم نے وفود تیار کیے ہیں، کئی جرگے کئے اور آئندہ بھی منعقد کئے جائیں گے جن کو ختمی شکل دیدی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موومنٹ کا بنیادی مقصد قبائیلیوں کو یکجا کرنا ہے۔ انضمام سے پہلے جو صورتحال تھی اج بھی وہی صورتحال ہے تو ایسے انضمام کی کیا ضرورت ہے۔

قبائیلی امور کے حوالے سے صدر پاکستان سے آئینی اختیارات لیکر پارلیمنٹ کو بااختیار بناناکہاں کا انصاف ہے قبائلیوں کو اعتما د میں لینا کیا ان کا حق نہیں بنتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ انضمام ایف سی آر کے خاتمہ کے لئے نہیں بلکہ قبائل کے معدنیات پر قبضہ کرنا مقصود تھا۔ قبائل تحفظ موومنٹ کے ذمہ داروں نے کہا کہ ہم انضمام کے خلاف آئینی جنگ لڑ رہے ہیں جس کے لئے ہم نے قبائل میں شعور اجا گرنا ہے.

یوم آزادی کے اس خوشی کے موقع پر ہم نے دنیا کو پیغام دینا ہے کہ قبائلیوں کا اپنا ایک تشخص ہے جسے برقرار رکھنے کے لئے قبائل لڑنا جانتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ خاصہ دار اور لیویز مراعات تھے مگر آج پولیس کا نظام اس کے برعکس ہے، ہم پولیس اور اس نظام کے خلاف نہیں ہیں. ہم اس لئے مسترد کرتے ہیں، اس نظام میں قبائلیوں کا فائندہ نہیں ہے اگر قبائلیوں کا فائدہ ہے تووہ ہے صرف اور صرف الگ صوبہ۔   

ایڈیٹر شہریار بٹ

شہریار بٹ
شہریار بٹ بسلسلہ کاروبار شارجہ میں مقیم ہیں اور یو اے ای اردو پر آپ خبروں کی کیٹیگری اپڈیٹ کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔