steps to set up business in Dubai

دبئی، یو اے ای میں اپنا کاروبار کیسے شروع کریں؟

دبئی ( یو اے ای اردو – 31 جولائی 2021 – زوہیب بٹ، ارشد فاروق بٹ) اگر آپ پاکستانی ہیں اور متحدہ عرب امارات میں کاروبار شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو درج ذیل پانچ مراحل کو طے کر کے آپ کے لیے کاروبار سیٹ اپ کرنا ممکن ہے. یہ کالم فرسٹ ہینڈ انفارمیشن پر لکھا گیا ہے اور مصنفین 20 سال سے دبئی میں مقیم ہیں۔

1. دبئی یاترا کریں

دبئی، متحدہ عرب امارات میں کاروبار شروع کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ آپ متحدہ عرب امارات میں وزٹ ویزہ پر آئیں. اگر آپ پہلے ہی یو اے ای میں ہیں اور کسی کمپنی میں ملازمت کر رہے ہیں تو آپ کو اپنی کمپنی سے اجازت لینا ہو گی. اگر آپ کی کمپنی آپ کو کاروبار کی اجازت دیتی ہے تو آپ کاروبار شروع کر سکتے ہیں. بصورت دیگر آپ کو پہلے استعفی دینا ہوگا اور منسٹری آف لیبر میں ویزہ کینسل کی درخواست دینی ہوگی.

2. کاروبار کا نام، ٹائپ، جگہ اور ایکٹوٹی منتخب کریں

دبئی میں آپ جو بھی کاروبار کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے مناسب نام کا انتخاب کریں اور اگر کوئی کمپنی قائم کرنا چاہتے ہیں تو اس کے نام کو رجسٹر کرانا ہو گا. فری زون میں کمپنی یا کاروبار کے لیے آپ کو لوکل سپانسر کی ضرورت نہیں ہوتی. چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے فری زون بہتر آپشن ہے جس میں وہ تمام حقوق کے مالک ہوتے ہیں۔ لیکن LLC کمپنی کے لیے آپ کو لوکل سپانسر کو ساتھ ملانا ہوگا۔

دبئی میں بہت سے پاکستانی ریستوران، گراسری سٹور، سیلون، موبائل فون شاپ، کمپیوٹر شاپ، آپٹیکل سنٹر، گارمنٹس، کیفے ٹیریا سمیت کئی ایک کاروبار کامیابی سے چلا رہے ہیں. کاروبار کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں.

کاروبار کے لیے جگہ کا انتخاب کریں. اور دکان کے مالک سے معاہدہ کریں جس میں تین ماہ کا ایڈوانس کرایہ اور ایک سال کا معاہدہ ہو گا جس میں انشورنس بھی شامل ہو گی۔ اس معاہدے کی کاپی آپ کو لائسنس اپلائی کرنے کے لیے درکار ڈاکیومنٹس میں لگانی ہوگی۔

جو بھی کاروبار آپ کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے ایکٹوٹی منتخب کریں. ایکٹوٹی کا مطلب ہے کہ آپ کون کون سی سروس دینا چاہتے ہیں. اگر آپ کا کیفے ٹیریا ہے تو اس میں چائے یا کافی ایک ایک ایکٹوٹی تصور ہونگے. آپ کیفے ٹیریا میں کسی کو کھانا آفر نہیں کر سکتے کیونکہ وہ آپ کی کاروبار کی ایکٹوٹی میں شامل نہیں ہے. ایکٹوٹیز جتنی زیادہ ہونگی ، لائسنس کی فیس اسی حساب سے بڑھتی جائے گی.

3. لائسنس کے لیے اپلائی کریں

اب آپ منسٹری آف کامرس یو اے ای کے ذریعے بزنس لائسنس کے لیے اپلائی کر دیں۔ اگر آپ کے پاس کسی دکان کے مالک سے کیا گیا معاہدہ موجود نہ ہو تو منسٹری آف کامرس کے حکام آپ کو پہلے اس مرحلے کو مکمل کرنے کے لیے بھیجیں گے۔ دوسری صورت میں منسٹری آف کامرس کے ملازمین آپ کی منتخب کردہ شاپ کا دورہ کریں گے اور کوئی اعتراض نہ ہونے کی صورت میں آپ کے بزنس لائسنس کو منظور کر لیں گے اور واؤچر جاری کر دیں گے۔

4. بینک اکاؤنٹ کھلوائیں

دکان کے مالک کو رقم کی ادائیگی، منسٹری آف کامرس کے واؤچر کی ادائیگی و دیگر اخراجات کے لیے آپ کو بینک اکاؤنٹ کی ضرورت ہو گی۔ دبئی میں بینک اکاؤنٹ کھلوائیں اور ادائیگیاں کریں۔

5. ویزہ کے لیے اپلائی کریں

تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد آپ منسٹری آف لیبریو اے ای میں ویزوں کے لیے اپلائی کریں گے۔ آپ اپنے کاروبار کے حجم کے حساب سے یو اے ای ویزے اپلائی کر سکتے ہیں۔ عموما ایک بزنس اونر کو چار افراد کے ریزیڈنس ویزے مل جاتے ہیں اور وہ ان افراد کو اپنے ساتھ دبئ میں بلوا سکتے ہیں۔ تاہم باقی افراد کے ویزوں کی منظوری کاروبار کے حجم سے مشروط ہے۔

حاصل بحث:

یو اے ای میں کاروبار کے لیے لائسنس کی فیس 20 سے 50 ہزار درہم (9 لاکھ سے 24 لاکھ پاکستانی روپے) تک ہو سکتی ہے جس کا انحصار کاروبار کی قسم اور ایکٹیوٹیز پر ہے۔ ایک شخص کے ویزے پر تقریبا 8 ہزار درہم خرچ آتا ہے۔ لہذا اگر آپ کے پاس کم از کم 60 لاکھ کی سرمایہ کاری موجود ہے تو آپ اپنے خواب کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔

دبئی میں ایک عام دکان (سیلون، گراسری سٹور، کمپیوٹر شاپ وغیرہ) کا کرایہ سالانہ 20 سے 25 ہزار درہم تک ہے جوکہ 9 سے 11 لاکھ پاکستانی روپے تک سالانہ بنتا ہے۔ جبکہ ان کا ماہانہ منافع تمام خرچے نکال کے 8 سے 10 ہزار درہم تک نکل آتا ہے جو کہ پاکستانی کرنسی میں 5 سے چھ لاکھ تک بنتا ہے ۔ خرچوں میں یوٹیلٹی بلز، لائسنس ری نیو فیس وغیرہ شامل ہیں۔

اگر آپ کو دبئی، شارجہ، ابوظہبی وغیرہ میں کاروبار کے حوالے سے مزید تفصیلات درکار ہیں تو کمنٹ کر کے پوچھ سکتے ہیں۔ ہم آپ کے کمنٹس کا جواب اس کالم میں شامل کردیں گے۔ مزید معلومات کے لیے ہماری ویب سائٹ یو اے ای اردو ڈاٹ کام ، ہمارا فیس بک پیج، ٹویٹر اور یوٹیوب چینل کو وزٹ کرتے رہیے۔

ایڈیٹر ارشد فاروق

ارشد فاروق
ارشد فاروق بٹ کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ یو اے ای اردو ویب سائٹ پر آپ ویزہ گائیڈ اور اردو نیوز کی کیٹیگری اپڈیٹ کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے