imran khan jalsa pti islamabad

چرواہا !!!

تحریر : ارشد فاروق بٹ
ایک چرواہا جنگل میں بھیڑ بکریاں چرایا کرتا تھا اور لوگوں کو تنگ کرنے کے لئے جھوٹ موٹ شور مچاتا، لوگو ! میری مدد کو آؤ، شیر آگیا، شیر آگیا اور میری بھیڑ بکریاں کھا گیا۔

جنگل کے آس پاس کے لوگ ڈنڈے وغیرہ لے کر آتے تو وہاں کوئی شیر نہ ہوتا۔ لوگوں کو دیکھ کر چرواہا ہنستے ہوئے کہتا میں تو مذاق کر رہا تھا. اس نے ایسا کئی مرتبہ کیا اور لوگوں میں اپنا اعتماد کھو بیٹھا۔

آخرکار تقدیر نے اسے جھوٹ کی سزا دی اور ایک روز سچ مچ کا ایک شیر ادھر آنکلا جس نے اس کی بہت ساری بھیڑ وں کو ہلاک کر دیا اب چرواہا درخت پر چڑھ کر خوب شور مچانے لگا لوگو ! میری مدد کو آؤ، شیر آ گیا، شیر آ گیا، مگر لوگ اسے جھوٹا سمجھ کر قریب نہ آئے اور یوں اس نے اپنے جھوٹ کی سزا پائی۔

شہر اقتدار اسلام آباد میں حال ہی میں ایک چرواہے نے خط لہرایا ہے اور اسے لیٹر گیٹ کا نام دیتے ہوئے عالمی سازش کا شورو غل برپا کیا ہے. حالانہ ہم ابھی تک اس جنگ کے منتظر ہیں جس کے لیے چرواہے نے مالک کو توسیع دی تھی.

اقتدار کو ہاتھ سے جاتا دیکھ کر نہ جانے انسان اتنا مخبوط الحواس کیوں ہو جاتا ہے. حالانکہ اقتدار آنی جانی چیز ہے اور پاکستان جیسے شخصیت پرست اور توہم پرست معاشرے میں تو یہ اور بھی آسان ہے.

عوام کی پتھرائی آنکھوں نے کتنے ہی آمروں کا دور بھگتا ہے. لیکن جب جب عوام کو موقع ملا ہے عوام نے آمریت کی باقیات کا وہی حال کیا ہے جو آمریت ملک کے آئین و قانون کا کرتی آئی ہے.

اگر چرواہا واقعی سمجھتا ہے کہ اس کی لیٹر گیٹ سٹوری کو پذیرائی ملے گی تو یا تو چرواہے کا ذہنی توازن خراب ہے یا عوام کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہو چکی ہے.

کچھ بھی ہو، چرواہے کی چیخوں نے اس وقت خلائی مخلوق کو بھی بے چین کر دیا ہے. اس بھیانک انجام کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہ تھا. بابا جی فرماتے ہیں خطری خط کا وہی حال ہو گا جو قطری خط کا ہوا تھا.

ایڈیٹر ارشد فاروق

ارشد فاروق
ارشد فاروق بٹ کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ یو اے ای اردو ویب سائٹ پر آپ ویزہ گائیڈ اور اردو نیوز کی کیٹیگری اپڈیٹ کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔