میری غلطی یہ ہے کہ میں ان کو این آراو نہیں دے رہا جو یہ مانگ رہے ہیں، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ نئے پاکستان کی عکاسی کرے گا اور پاکستان عظیم ملک بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں مدینہ 14سو سال پہلے بنی تھی اب کوئی نئی بات کرو، میں کہتا ہوں کہ وہ ماڈرن ریاست تھی۔ اصل ریاست وہ ہے جس ریاست کا سربراہ جوابدہ ہو، جہاں کوئی قانون سے اوپر نہ ہو۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ نظریہ پاکستان کی عکاسی کرنے والا بجٹ ہے، مدینہ کی ریاست کے اصول مغربی دنیا میں ہیں لیکن ہم انہیں نہیں اپنا سکے۔ عمران خان نے سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب اشارہ کر کے کہا کہ کوئی کہتا تھا کہ نیب اسے نہیں پکڑ سکتا اور یہ کہ نیب کون ہوتا ہے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ آج بڑے بڑے برج الٹ گئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مدینہ کی ریاست پہلے دن بڑی ریاست نہیں بن گئی تھی، عمران خان نے کوئی سوئچ نہیں چلانا کہ سب ٹھیک ہو جائے، ان کاموں میں وقت لگے گا۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ ججوں کو فون کر کے بتاتے تھے کہ یہ کرو اور ان سے ڈنڈے کے زور پہ کام کرواتے تھے، یہ ان کے بنائے نیب نے ہی انہیں سزا دلوائی ہے۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنے بڑے بڑے برج الٹ جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب وزیراعظم بنا تو پہلے دن سے مجھے تقریر نہہیں کرنے دی گئی، نہ پہلے دن بولنے دیا نہ اب بولنے دیتے ہیں جب جاتا ہوں شور مچاتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میری غلطی یہ ہے کہ میں ان کو این آراو نہیں دے رہا جو یہ مانگ رہے ہیں، این آر اوز نے ہمیں مقروض کیا، ن لیگ اور پیپلز پارٹی اکٹھے ہو گئے ہیں، انہوں نے ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگائے، سرے محل بک گیا لیکن پیسہ این آر او کی وجہ سے پاکستان میں نہیں آیا۔ انہوں نے مل کر نیب کا ہیڈ لگایا اور 5,5 سال کی باری رکھ لی کہ تم ہمیں کچھ نہ کہنا ہم تمہیں نہیں کہیں گے۔ نیب میں جو کیسز ان پر تھے وہ میں نے نہیں کیے تھے وہ انہوں نے خود ایک دوسرے پر بنائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں