کیا پشاور ڈھاکہ بننے جا رہا ہے ؟

معاشی استحصال اور محرومیوں کے تاریک گرداب میں گم ہوے وطن کے سپوتوں کو دشمن کا وہ چراغ جو آشیانے کو جلانے کی غرض سے آیا ہو امید کی کرن نظر آتا ہے۔ کچھ ایسا ہی ہال ہمارے بلوج’ پشتون اور سندھی مہاجر بھائیوں کے ساتھ بھی ہوا جو نے دشمن کو اپنا نجات دہندہ سمجھ بیتھے۔ سونے پر سہاگہ یہ کے ہمارے نو نہال حکمران جو ہمیشہ وقتی سوج رکھتےہیں’ نے دشمن کے ارادوں کو بھانپنے کی بجائے اس کے موئقف کو جلا بخشی اور خون کی ہولی کھیلنے کے لئے خون و خنجر بھی مہیا کیئے۔ طاقت کا بے دریغ استعمال پسماندہ طبقات میں جذبہ انتقام کو مزید ہوا دیتا ہے. انتہا پسنددندہ پردار شریعت اور معتدل اسلامی ریاست کے دوراہے پر بٹی قوم پشاور کے ننھے شھیدوں کے لہو کے صدقے یکجا ہوئی تھی اب لسانی بنیادوں پر تقسیم ہو رہی ہے-
تاریخ شاہد ہے آج تک ہمیں غیروں سے زیادہ اندرونی مہاذ آرائیوں نے برباد کیا دشمن نے ہمیشہ زر’ زن اور زمین کے زریعے ہمیں زیر کیا۔
پشتون اور بلوچ جن کی بہادری کا ثمر پاکستان کی صورت ملا آج اس نیج پر آن چکی ہیں کی اکثریت نہ سہی پر اقلیت پرغداری کا الزام لگ رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت احساس محرومی کا خاتمہ کیا جائے اوز ماضی کا ازالہ کیا جائے وگرنہ دشمن ہونہی لسانی اور فقہی بنیادوں پر لڑا کر اپنے مضموم عزائم پورے کرتا رہے گا-
اس سب کے باوجود ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں اور ان کے آقائوں کو یہ ملحوظ خاطر رکھنا چائیے کی ارض پاک ایک معجزہ جو ہمیشہ دشمن کی آنکھ میں کھٹکتا رہے گا-

اپنا تبصرہ بھیجیں