kashmir issue

مسئلہ کشمیر کا حل نا گز یر

از: ابر ا ہیم مغل
ٍدر ست کہ پا کستا ن نہ صر ف اپنے قو ل سے ،بلکہ فعل سے بھی دنیا بھر کو اپنے امن پسند ہو نے کا ثبو ت دینے میں کا میا ب ہو چکا ہے مگر اتنا کر لینے کے بعد پاکستان کی ذمہ داریاں پوری نہیں ہوگئیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اب تک جو ہوچکا وہ صرف ایک بنیاد تھی جس پر پائیدار امن کے ڈھانچے کی تعمیر ممکن ہے۔ جبکہ اند ر کی خبر کچھ یو ں ہے کہ پچھلے دنو ں بھا ر ت نے اسر ا ئیل کی مد د سے را جھستا ن سے پا کستا ن کے دو اہم تر ین شہر وں کر ا چی اور بہا و لپو ر پر حملے کا پر و گرا م بنا یا تھا۔بھا رت نے ان شہر وں کے چھ سا ت مقا ما ت کو اپنے نشا نے پر لینا تھا۔ لیکن حملے کا منصو بہ نا کا م ہو گیا کیو نکہ پاکستا ن کی ا نٹیلی جنس آ ئی ایس آ ئی کا اس منصو بہ کا بر وقت علم ہو گیا تھا۔ آ ئی ایس آ ئی نے ستا ئیس اور اٹھا ئیس فروری کی در میا نی را ت کو بھا رتی ایجنسی را کو فو ن کر کے بتا دیا تھا کہ بھا رت کے اس منصو بے کا ہمیں علم ہو چکا ہے۔ اگر بھا رت نے کو ئی ایسا قدم اٹھا یا تو پا کستا ن تین گنا قو ت سے اس کا جو اب دے گا جسے بر دا شت کر نا بھا ر ت کے قا بو سے با ہر ہو گا۔ بھا ر ت اس کا جواب نہیں دے گا۔ آ ئی ایس آ ئی کے اس جوا ب پر بھار ت اپنی اس مذ مو م کا روا ئی سے باز رہا۔لیکن خد شہ یہ بھی ہے کہ بھار ت اپنی اس نا کا می کے بعد پا کستا ن میں کو ئی بڑی قسم کی کا رو ائی کا ار تکا ب کر بیٹھے۔گو اس وقت پا کستا ن اور بھا ر ت کی حکو متو ں کے در میان کو ئی بر ا ہِ را ست را بطہ نہیں، تا ہم دو نو ں مملک کی ایجینسز کے در میا ن را بطہ بر قرا ر ہے۔ یہی را بطہ ستا ئیس اور اٹھا ئیس شب کی را ت کو بھی ہو ا تھا ۔بھا رتی منصو بے کے انکشا ف اور بھا رتی ایجنسی سے را بطے میں کچھ عا کمی رہنما ؤ ں کو بھی شا مل کیا گیا تھا، اس طر ح پا کستا ن کے خلا ف یہ بڑا منصو بہ ٹل گیا تھا۔ حکو متی ذر ا ئع کے مطا بق بھا ر ت کی طر ف سے ایک میز ا ئل حملے کا پر وگرا م بھی بنا یا گیا تھا۔ یہ منصو بہ نا کا م کر نے کی غر ض سے کچھ تیسر ے ممالک کی جا نب سے بھا رت کو پیغا م دیا گیا کہ اگر حملہ کیا گیا تھا تو پا کستا ن بھر پو ر طر یقے سے جوا ب دے گا۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ مودی نے صر ف الیکشن کی و جہ سے پور ے خطے کو جنگ کی جا نب لے جا نے کی کو شش کی تھی۔لیکن پا کستا ن نے بھا ر تی پا ئلٹ کو رہا کر کے خیر سگا لی کا پیغا م دیا۔پا کستا ن کے اس اقدا م کو سرا ہتے ہو ئے بر طا نوی وز یرِ اعظم نے پا کستا نی وز یرِ اعظم کو فو ن کا ل کی ۔ یہ بلا شبہ پا کستان کی سفا رتی محا ز پر ایک بڑی کا میا بی تھی۔تا ہم یہ محض ایک آغاز تھا، قومی قیادت کو جسے انجام تک پہنچانا ہے۔ صورتحال کو پوری طرح سمجھنے کے لیے 14 فروری اور اس کے بعد کے واقعات پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی نیم فوجی دستوں کی بس پر حملہ ہوا۔ بھارت کی جانب سے سوچے سمجھے اور معمولی سی تحقیقات کے بغیر جس کا الزام پاکستان پر عائد کردیا گیا اور اگلے چند دنوں کے اندر حالات بڑی تیزی سے مسلح تصادم کی جانب بڑھے۔ یہ پاکستا ن کی فو جی قیادت کا تدبر ہے جس نے ایک خوفناک جنگ کو آخری لمحوں پر ٹال دیا مگر خطرات ابھی پوری طرح ٹلے نہیں اور یہ خطرات کسی صورت مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکتے جب تک کہ پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کی جڑ یعنی مسئلہ کشمیر کا کوئی پائیدار اور قابل عمل حل نہیں نکل آتا۔ پلوامہ واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے بالقصد پیدا کیے گئے حالات نے مسئلہ کشمیر کے حل کی اہمیت کو ایک بار پھر سے اجاگر کردیا ہے۔ مگر کشیدگی کے کم ہونے کے باوجود مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر پوری قوت سے اٹھانے اور اجاگر کرنے کی ضرورت ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ہم یہ ضرورت کس طرح پوری کرتے ہیں؟ یہ پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں کا امتحان ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے پچھلے پانچ برسوں کے دوران پورے بھارت میں عموماً اور مقبوضہ کشمیر میں خصوصاً مسلمان آبادی کو جس بے رحمی سے کچلے رکھا، اس کے بعد کشمیریوں میں جذبۂ انتقام کا شدت اختیار کرجانا ایک فطری امر ہے۔ دوسری جانب اس دوران بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے پار فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات تقریباً تواتر سے جاری ہے۔ یعنی صورتحال دونوں جانب سے اور دونوں حوالوں سے پیچیدہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر بھارتی فورسز کے بڑھتے ہوئے مظالم اور ان کے جواب میں کشمیری حریت پسندوں کی کارروائیاں، جس کے بعد بھارت سیدھا الزام پاکستان پر لگاتا ہے، جبکہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرکے بھارت براہِ راست پاکستان کو اشتعال دلاتا ہے۔ دریں حالات خطے میں پائیدار امن کا تصور خارج از امکان ہے۔ چنانچہ حالیہ دنوں کشیدگی میں کمی آجانے کے باوجود قیام امن کا تصور اس وقت تک محال ہے جب تک بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ پچھلے پانچ برسوں میں بھارت کے جارحانہ اقدامات نے حالات میں نیا اُبال پیدا کردیا ہے جس نے کشمیری عوام کی تحریک آزادی کو ایک نیا ولولہ اور جوش بخشا ہے اور وہ پہلے سے بڑھ چڑھ کر اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے کوشاں ہوچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس صورتحال نے بھارتی قیادت کو بوکھلا کر رکھ دیا ہے۔ اس لیے خاصے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اب بہت دیر تک ٹالا نہیں جاسکتا اور نہ ہی اس مسئلے کو جوں کا توں رکھنا اس خطے میں امن کے حق میں اچھا ہے۔ چنانچہ پاکستان کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ عالمی سطح پر ہم اس کے حل کے لیے کیا سفارتی کوششیں کرسکتے ہیں؟ اس سلسلے میں ہماری حکمت عملی میں یقیناًتبدیلی کی ضرورت ہے۔ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ اب تک ہم مسئلہ کشمیر کو ایک درپیش ذمہ داری کے طور پر لیتے رہے ہیں کہ یہ ہماری سٹیٹ پالیسی ہے، مگر اب مسئلہ کشمیر کا حل ہماری بقا کا مسئلہ ہے۔ صرف ہماری بقا کا مسئلہ نہیں بلکہ دنیا کے اس حصے میں پائیدار امن کی ضمانت بھی۔
غو ر کر نے کی با ت یہ ہے کہ کیا مقبو ضہ اور آ ز اد کشمیر کے با رڈر پر بڑھنے وا لی کشید گی کیا و ہیں تک محد و د رہ سکے گی۔ ظاہرہے اس کاجوا ب نفی میں ہی آ ئے گا۔ پھر اب جبکہ دو نو ں مما لک ا یک عر صے سے ا یٹمی قو ت بن چکے ہیں، دو نو ں کے لیئے اس کشید گی کو سنبھا لنا انتہا ئی مشکل ہو جا ئے گا۔ یہی وہ وجہ ہے جس کی بنا ء پر اب مسلۂ کشمیر کا فور ی حل نا گز یر ہو چکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں