kashmir issue

کشمیر پر بھار تی تسلط کے اکہتر سا ل

ڈاکٹر ابراہیم مغل
یو ں تو یہ ستا ئس اکتو بر 2018کا دن تھا جب مقبو ضہ کشمیر پر بھا رتی تسلط کے 71سا ل مکمل ہو ئے۔ مگر اس سے پہلے ہی و ہا ں یو مِ سیا ہ منا ئے جا نے کے خو ف سے بھا ر تی فو ج نے وہشت گر د ی کو نیا سلسلہ شر و ع کر دیا۔ چنا نچہ کچھ رو ح فر سا خبر یں یو ں سننے کو ملیں کہ کو لگا م کے زبر د ست محا صر ے کے دوران کیمیا ئی ہتھیا ر و ں کا بے د ھڑ ک ا ستعما ل کیا گیا۔بھا ر تی افو ا ج نے بھا ری بار و دی موا د سے گھر تبا ہ کیئے۔یہا ں یہ سب بیا ن کر نے کا مقصد خبر یں سنا نا نہیں، بلکہ عا لمی ضمیر کو جھنجو ڑ نے کے سا تھ اپنا بھی محا صرہ کر نا ہے کہ ہم پا کستا نیو ں کا کشمیر یو ں کی جنگِ آ ز ا دی میں کیا رو ل ر ہا ہے۔ آ ج جب ہم سنتے ہیں کہ پلو ا مہ میں ایک حا ملہ خا تو ن کو گو لی ما ر کر شہید کر دیا گیا ، تو کیا ہما ر ے حکمر ا ن عا لمی سطح پر دنیا کی بڑی طاقتو ں کو مجبو ر کر تے ہیں کہ وہ بھا ر ت کے در ند گی میں لتھڑ ے اقد ا ما ت پہ او ر کچھ نہیں تو کو ئی چیک ہی ر کھیں؟ مگر نہیں، اور یو ں 27 اکتو بر کو وہا ں بھا ر تی جا ر حیت اور قبضے کے 71سا ل مکمل ہو گئے۔ بے شک اس مو قع پر دنیا بھر میں کشمیریوں نے بھارتی جارحیت اور قبضے کے خلا ف یوم سیاہ منایا۔ اس موقع پر آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاجی مظاہر ے ہوئے، جلسے اور ریلیاں نکالی گئیں اور جدوجہد آزادی جاری رکھنے کا عزم کیا گیا۔ مقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتال ہوئی، دکانیں اور کاروباری مراکز بند، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروس معطل رہی۔ اس احتجاج کا مقصد کشمیر پر بھارتی قبضے اور کشمیریوں کے قتل عام کو عالمی برادری کے سامنے بے نقا ب کرنا تھا۔ یوم سیاہ کی مرکزی تقریب مظفر آباد میں ہوئی۔ وزیر اعظم عمران خان اور صدر مملکت عارف علوی نے یوم سیاہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ بھارت نے کشمیر میں فوج بھیج کر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی، بھارت اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے برعکس 7 دہائیوں سے کشمیر پر قابض ہے۔ سلامتی کونسل اپنی قراردادوں میں کشمیریوں کے حق استصواب رائے کا فیصلہ دے چکی ہے۔ بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو طاقت کے ذریعے نہیں دبا سکتا۔ پاکستان کشمیریوں کے حق رائے دہی کو عملی جامہ پہنانے تک ان کی سیاسی، اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کشمیریوں کی جدوجہد کی قدر کرے، بھارت نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سری نگر میں اپنی فوجیں بھیجیں۔ اس کی جانب سے کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔
کشمیر پربھارت کے غاصبانہ قصبے کے 71 سال گزرنے کے بعد آج مسئلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ایجنڈا اور یہ مطالبہ برقرار ہے کہ اقوامِ متحدہ اس مسئلے کو اپنی قراردادوں کے مطابق حل کرائے۔ 27 اکتوبر 1947ء کو بھارت نے عالمی قوانین اور آزادی برصغیر ایکٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرلیا۔ اس دن سے بھارتی فوج کی کشمیریوں پر مظالم ڈھانے، قتل عام کرنے اور وادی پر جبری قبضہ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جو سات دہائیاں گزرجانے کے بعد آج تک جاری ہے۔ یہ جبری تسلط قائم کرکے بھارت نے کشمیریوں کو آج تک حق خود ارادیت سے محروم رکھا ہوا، وہ اپنے قبضہ کو طول دینے کے لیے نت نئے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے۔ یومِ سیاہ کے موقع پر سری نگر میں کل جماعتی کانفرنس نے بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضہ تقسیم برصغیر، دو قومی نظریئے اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے علاوہ کشمیری عوام کی خواہشات کے خلاف ہے۔ اقوامِ متحدہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانیت سوز مظالم کی بنیاد پر انڈیا کو دہشت گرد ملک قرار دے۔ اس احتجاج کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ جموں و کشمیر پر بھارت کا قبضہ قطعی طور پر غیرقانونی، بلاجواز اور کشمیریوں کی خواہشات کے منافی ہے۔ بھارت کی بدترین ریاستی دہشت گردی کا خصوصی ہدف کشمیری نوجوان ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کے لیے آج تک 70 ہزار سے زائد کشمیریوں کو شہید کرچکا ہے اور یہ سلسلہ کہیں بھی رکنے میں نہیں آرہی۔ بھارتی فوج سرچ آپریشن کے نام پر کشمیریوں کے گھر میں گھس کر عورتوں کی بے حرمتی کرتی، بچوں کو تشدد کا نشانہ بناتی اور نوجوانوں کو اٹھا کر لے جاتی ہے جن کی بعد ازاں لاشیں برآمد ہوتی ہیں۔ بھارتی فوج اپنے ظلم و بربریت کا پردہ ڈالنے کے لیے اسے مقابلے کا نام دیتی ہے۔ حریت رہنماؤں نے گورنر ستیہ پال کے اس بیان کی مذمت کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حریت رہنماؤں کے ساتھ اس وقت تک بات چیت نہیں ہوگی جب تک وہ تنازعہ کشمیر کے بارہ میں پاکستان کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ بند نہیں کریں گے۔ مسئلہ کشمیر کے پاکستان، کشمیری اور بھارت تین فریق ہیں۔ بھارت کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ کشمیریوں کو کسی بھی مذاکرات کے موقع پر مشاورت میں شامل نہ کیا جائے۔ اب اس نے کشمیریوں کو جال میں پھنسانے کے لیے نیا شوشہ چھوڑا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ بند کردیں۔ کشمیری بھی بھارت کی ان چالوں کو بخوبی سمجھتے ہیں اور انہوں نے واضح کردیا ہے کہ وہ اس کی کسی بھی چال میں نہیں آئیں گے۔ ہر سال 27 اکتوبر، 5 فروری، 14 اگست اور مختلف مواقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری مظاہرے اور احتجاج کرکے دنیا کی توجہ اس مسئلے کی جانب دلانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں مگر عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں بالخصوص اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہونا اس بڑے عالمی ادارے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے یوں محسوس ہورہا ہے کہ بھارت کے ساتھ عربوں کے بڑھتے ہوئے تعلقات کے باعث او آئی سی، عرب لیگ اور دیگر اسلامی ممالک مسئلہ کشمیرسے درخور اعتنا برت رہے ہیں۔ کشمیریوں نے لاکھوں قربانیاں دے کر اس مسئلے کو زندہ رکھا ہوا ہے اور انہیں امید ہے کہ کشمیر جلد بھارتی قبضے سے آزاد ہوگا اور وہ اپنی جنت نظیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوتا ہوا دیکھیں گے۔تا ہم جہا ں مقبو ضہ وا د ی کے عوا م اپنی قر با نیو ں کے حو ا لے سے اپنے مسقبل کے با رے میں پر ا مید ہیں ، وہیں ہم حکو متِ پا کستا ن کا یہ فر ض بنتا ہے کہ انہیں تنہا نہ چھو ڑ یں۔انہیں تنہا ئی کا احسا س کبھی نہ ہو نے دے۔ حکو مت کے اپنے مسا ئل اپنی جگہ، مگر مسلۂ کشمیر کو محض بیا ن بیا زی تک محد و د نہ ر کھا جا ئے۔ ا گر عملی طو ر پر کچھ کر نے کی نہ ٹھا نی گئی تو ہم کشمیر یو ں سے تو شر مند ہ ہو ں گے سو ہو ں گے، مگر اپنی آ نے وا لی نسلو ں کو بھی اس با ر ے تسلی بخش جو ا ب نہ دے پا ئیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں