urdu columns

عدا لتو ں میں مو سمِ سر ما کی تعطیلا ت

ڈاکٹر ابراہیم مغل
اب سے محض چند روز قبل کے اخبا را ت میں ایک مختصر سی خبر چھپی ہے۔ خبر کے مطا بق سپر یم کو رٹ آ ف پاکستا ن میں اٹھا رہ د سمبر سے مو سمِ سرما کی تعطیلا ت ہو ں گی۔ سپریم کو رٹ یکم جنو ری 2019کو دوبا رہ کھلے گی۔ اس خبر کو یہا ں بیا ن کر نے کی ضر ور ت یو ں پیش آ ئی کہ بطو ر چیف جسٹس آ ف پا کستا ن، اپنی تقرر ی سے تھو ڑا عر صہ قبل عزت مآب ثاقب نثار نے گورنمنٹ کالج لاہور میں اولڈ راوینز ایسویشن کی جانب سے اپنے عزاز میں دیئے گئے عشائیے میں شرکت کے نتیجے میں خطاب کرتے ہوئے دکھ بھرے انداز میں بتایا تھا کہ پاکستان میں انصاف کی فراہمی میں تاخیر اس حد تک ہورہی ہے کہ چند روز پیشتر میں نے ایک 54 سالہ پرانے مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ آ پ نے فرمایا کہ وہ وطن عزیز میں انصاف کی فراہمی کے معاملے میں ناامید ہوچکے ہیں۔ حاضرین نے آپ کے خطاب کو دل دہلانے والی خاموشی میں چہروں پہ رنج وملال کی نمایاں کیفیت کے ساتھ سنا تھا۔ بعد میں جج صاحب کے خطاب کو انتہائی پُر اثر قرار دیا گیاتھا۔ یہا ں اگر ہم انصا ف کی فر ا ہمی میں اس قد ر تا خیر کی با ت کریں تو اس کی بڑی وجہ عد ا لتو ں کا اوور لو ڈیڈ ہو نا ہے۔ اکیلی سپر یم کور ٹ میں اس وقت 398870 مقد ما ت فیصلہ سنا ئے جا نے کی را ہ دیکھ رہے ہیں۔ مجمو عی طو ر پر وطنِ عز یز کی کل عدا لتو ں میں اٹھا رہ لا کھ سے ز یا دہ مقد ما ت فیصلو ں کے منتظر ہیں۔ ایسے میں سپریم کو ر ٹ میں تعطیلا ت کی خبر پڑھ کر اپنی عقل کی اِس نا سمجھی کا اعتر ا ف کر نے پر مجبو ر ہو ں کہ عز ت ما ب چیف جسٹس آف سپریم کو ر ٹ آف پا کستا ن کے گو رنمنٹ کا لج وا لے خطا ب کی روشنی میں کس طو ر اِن چھٹیو ں کی اجا ز ت دے جا رہی ہے ؟ دست بستہ گز ا ر ش ہے کہ میں اعترا ض کر نے کا مر تکب ہر گز نہیں ہو رہا ہوں، بلکہ میں تو صر ف اپنی عقل کی کمی کا رونا رو رہا ہوں! ملک و ملت کا درد محسو س کر تے ہو ئے یہ گذ ا رش کر نا بھی مقصو د ہے کہ اگر وطنِ عز یز کے نظا م کی خر ا بیو ں کا جا ئز ہ لیا جائے تو عدا لتی نظا م سرِ فہر ست آ تا ہے۔اس خر ا بی کو سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے عروج پر پہنچا دیا۔ انہوں نے سفاک اور قومی مجرموں کے مقدموں کو کبھی پایۂ تکمیل تک نہ پہنچنے دیا، البتہ ذرا ذرا سے بات پر توہین عدالت کا نوٹس خوب لیا۔ ملک کی قدآورشخصیتوں سے سوری، سننے کا انہیں بے حد شوق تھا۔ یہ شوق انہوں نے خوب پورا کیا۔ کیوں اَب تک بولان بینک سیکنڈل کا مقدمہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا؟ مرتضیٰ بھٹو کے قتل کیس کا کیا بنا؟ او ر پھر آصف زرداری کے خلاف مقدمے، الحفیظ والامان ! آئے دن میڈیا میں بڑے لوگوں کے کرپشن سکینڈل سامنے آتے رہتے ہیں۔ کیا کوئی بتائے گا کہ کتنوں کو اب تک سزا سنائی گئی؟ البتہ اگر بڑے لوگوں کی دیکھا دیکھی اگر کوئی چھوٹا آدمی کوئی فراڈ کربیٹھے اور اس کے خلاف مقدمہ درج ہوجائے ،تو عدالت عالیہ اس بارے میں پورا انصاف کرتی ہیں، اور اس قرار واقعی سزا دلو ا کر رہتی ہیں۔ ملک کے سیاستدان اور قد آور شخصیتیں آئے دن ایک دوسرے کے خلاف کروڑ وں اور اربوں روپے کے ہتک عزت کے دعوے کرتی رہتی ہیں، میڈیا پہ خبریں نشر ہوتی ہیں۔ ایک سلسلہ چل پڑتا تھا۔ لیکن مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ان میں کوئی دعویٰ بھی عدالتوں میں اپنے منطقی انجام کو پہنچا ہو۔
اگر قبائلی علاقوں میں جرگہ اور پنجاب میں پنچایت فیصلے کرتے نظر آتے ہیں تو اس میں کون سی اچنبھے والی بات رہ جاتی ہے؟ یہ جرگہ اور پنچایتیں کسی مقدمے کو 54 سال تک گھسیٹنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔میں نہیں کہتا کہ ان کے سب ہی فیصلے انصاف پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ صدیوں پرانے نسل در نسل چلتے وہ قوانین ، جن میں خون کا بدلہ خون اور بے حرمتی کا بدلہ بے حرمتی جیسے فرسودہ قوانین پہ عمل کرنا ہے۔ دور کیو ں جاؤں میرے ایک ذاتی دوست کا آبائی مکان کا مقدمہ بیس برس تک چلا۔ وہ نوکری سے غیر حاضر ہوکر مسلسل عدالتوں کے دھکے کھاتا رہا۔ آخر کار سب پونجی ختم ہونے کے بعد مقدمہ واپس لینے پہ مجبور ہوگیا۔ وہ عدالت عالیہ میں حاضری کے جو مختلف قصے سناتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں۔
تسلیم کر تا ہو ں کہ چیف جسٹس صا حب جنا ب نثا ر ثا قب صا حب اپنے فر ا ئیضِ منصبی کی ادا ئیگی میں اپنے دن رات ایک کیئے ہو ئے ہیں۔ انہو ں علا لت کے دوران بھی کا م جا ری رکھا۔ لیکن با قی کے جج حضر ا ت؟ عدا لتی نظا م ابتر ی کا شکا ر ہے۔تا ہم موٹا سا سوال کہ کیا اس کو ٹھیک کرنے کے لئے فرشتوں نے آنا ہے؟ ظاہر ہے ٹھیک کرنے کی ذمہ جج صا حبا ن ہی کی ہے۔ سب جا نتے ہیں کہ اس ملک کے سب ہی ادارے اور عہد ید ا ر کر پٹ ہیں۔ مگر ان عہد یدا رو ں سے اگر با ت کر یں تو وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ کو اتنا ہی یقین ہے کہ میں کرپٹ ہوں تو عدالت میں جاکر ثابت کریں۔ وہ جانتے ہیں کہ عدالتوں میں کبھی اُنہیں کرپٹ ثابت نہیں کیا جاسکے گا۔ کرپٹ سیاستدان اول تو پیشی پہ حاضر نہیں ہوتے۔ اگر ہوتے ہیں انگلیوں سے وکٹری کا نشان بناتے ہوئے ٹی وی کی سکرین پر نمودار ہوتے ہیں۔ یہا ں یہ ذ کر بر محل ہو گا کہ جارج اور ویل کے مشہور زمانہ ناول “Animal Farm” میں ایک جگہ لکھا آتا ہے:
“All Animals are equal, but some animals are more equal than others.”
تو عوام جانتے ہیں کہ یہ آپس میں مور ایکول ہیں۔ ان مور ایکول بڑوں کا طبقہ ہی الگ ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ وہ ادارے جن کا کام ان مور ایکول اشرافیہ سے عوام کے حقوق انہیں واپس دلوانا ہے، بے بسی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں۔ ان اداروں کے اعلیٰ عہدیدار عوامی نوعیت کی تقریبات میں، عوام کے بنیادی حقوق کے غصب ہوجانے پہ یوں دکھی ہوجاتے ہیں کہ لگتا ہے کہ اب روئے کہ اب روئے۔ مگر پھر انہیں مور ایکول اشرافیہ کی نجی محفلوں میں دیکھا کیجئے۔ ان کی باڈی لینگوئج ملاحظہ فرمایا کیجئے۔ پھر یہ وضعداری کے نام پر مور ایکول اشرافیہ کے جرائم سے چشم پوشی کرتے ہیں۔کہنا یہ چا ہتا ہو ں کہ نہ صرف نچلے طبقے کو انصا ف کی فر ا ہمی کی ضر و ر ت ہے، بلکہ ز یا دہ ضر و ر ت اس امر کی ہے کہ ان کے دلو ں سے ا حسا سِ محر و می اور احسا سِ کمتر ی ختم کیا جا ئے۔یہ تب ہی ممکن ہو سکے گا جب ان کا عدا لتو ں پہ اعتما د بحا ل ہو جائے۔ عدا لتو ں کو ان کے مقد ما ت کو آ گے سے آ گے سرکا نے کا سدِ با ب کر نا ہو گا۔اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ ان کے با پ دادا کے زما نے سے چلے آ رہے مقد ما ت کو نپٹا نے کے لیئے اپنی استطا عت سے ز یا دہ کا م کر نا ہو گا۔ اور کچھ نہیں تو موسمِ سر ما ا ور مو سمِ سر ما کی تعطیلا ت ہمیشہ کے لیئے منسو خ کر نا ہو ں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں