urdu columns today

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

تحریر: خاور ساہی
خوشی و غمی کامیابی و ناکامی کی آنکھ مچولی زندگی بھر انسان کے ساتھ چلتی رہتی ہے اچھے برے دن ہماری زندگی کا لازمہ ہیں ہمیں ان کے ساتھ سمجھوتہ کرنا ہی پڑتا ہے۔ کیونکہ وقت سے کوئی مقابلہ نہیں اور نہ اسکی طاقت سے کوئی ہے خبر ہے۔ کامیاب وہ ہی ہے جو وقت کی نذاکت سے کھیل گیا۔ اس کا سامنا کرتے وقت ہمارا رویہ کیا تھا؟ ہم نے اپنی ناکامی کو کامیابی کا پہلا زینہ سمجھا یا ناکامی کو اپنے گلے کا ہار بنا کر مایوس ہوکر بیٹھ گئے ۔بہت سے خیالات ہمارے ایک جوان کے ذہن کے نہاں خانوں میں بڑی شدت سے ہلچل مچائے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے سامنے موجود زندگی کے وسیع و عریض دریا کی تند و تیز لہروں سے مردانہ وار مقابلہ کیے جارہا ہے کیونکہ جس عمر میں وہ ہے شاید دل و جاں کی ساری توانیاں اسی وقت اپنے عروج پر ہوتی ہیں۔ دل میں چٹانوں سے ٹکرانے کا حوصلہ بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے ! آئیے بات کرتے ہیں ایک ایسے ہی پھول کی جو آجکل ان حالات سے دوچار ہے۔ یہ بات ہے جنوبی پنجاب کے ایک جوان کی کہ جب اس کا جنم ہوا تو اس سے منسلک لوگوں یعنی اس کے کنبے اور گھرانے کے لوگوں نے اس سی ایک امید وابسہ کرلی کہ ہمارا یہ فرزند بڑا ہوکر ہمارے گھرانے کا نام پیدا کرے گا، اسککی عزت کا سبب بنے گا۔ ہاں ہوا بھی یوں اس جوان کافی عزت کمائی، اپنے خاندان کا نام جوکہ پہلے ہی کیس تعارف کا محتاج نہ تھا اس کو اور بھی عزت بخشی ۔اس کے قلم اور زبان کی طاقت سے عالم بھی مہکتا رہا۔ مگر پھر اس جوان کا داخلہ ایک ایسے ادارے میں ہوا جو انسان کو ہر فن مولا بنانے میں ایک نام رکھتا ہے۔ اب ادھر آکر جوان کو تعلیم تو ہر فن کی ملی مگر لگن اور شوق ادب سے ہوگیا، ادب جوکہ حقیقی معنوں میں ایک تعلیم ہے جس کو آج کا معاشرہ پس پشت ڈالے ہوئے ہے۔ خیر اس سے منسلک لوگ اسکو ڈاکٹر دیکھنا چاہتے تھے، جس کی خواہش اسکے ذۃن میں کافی حد تک دم توڑ چکی تھی۔ اب جوان نے انکو انکار نہ کی مگر امید بندھائی رکھی کہ اللہ خیر کرے گا۔ اور اس طرح اس نے محنت اپنی جاری رکھی یہ سوچ کرکہ وہ دونوں میدان فتح کرلے گا۔ مگر پھر آیا سال 2018،وہ سال جس سال وقت کی بھومی نے اپنا کام کر دکھایا، وہ سال جس میں اس سے وابستہ امیدوں نے دم توڑا، وہ سال جس نے اس کا ککھ نہ چھوڑا۔ وہ سال جس میں ایک لمبے عرصے سے چلی ہوئی بہار کو خزاں نے لپیٹ میں لے لیا۔اس سال ہوا کچھ یوں کہ وقت نے اس سے ڈاکٹر ی والی لائن چھین لی، سہارا وقت نے ایف ایس سی کے نمبروں کا لیا، جوان نے ہمت اندھی رکھی کہ ڈاکٹر نہیں تو کیا ہوا، ہزاروں راستے اور بھی ہیں مگر جب اس نے نظر دوڑائی دوبارہ اُدھر ہی جہاں سے سلسلہ شروع ہوا تھا کہ اس سنے منسلک لوگ اس سے کیا چاہتے ہیں تو اس کا دل صرف ایک ہی آواز دیتا کہ ’’ڈاکٹر‘‘ اب حالات سے لڑنا نا ممکن تو تھا مگر وہ ایک مرتبہ انکے مقابلے کیلئے کھڑا ضرور ہوا، مگر اس کے نصیب ہار آئی۔ وقت جیت گیا جس کی طاقت سے کوئی بے خبر نہیں۔ اب خود کے لیے تو نہیں شاید مگر اپنے سے منسلک لوگوں کی خواہش کو پورا کرنے میں لگا پڑا ہے۔ رب کی ذات مہربان ہو اور کامیابی اس کے نصیب کرے۔ مگر یہاں میں ایک بات بتلاتا چلوں کہ ہماری دانست میں کہیں نا کہیں ہم سے غلطی ہوئی ہے کہ ہمیں علم کے معانی و معارف سمجھنے سے محروم رکھا گیا ہے۔ علم کی تعریف غلط انداز سے بیان کی گئی ہے۔ علوم کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ علم طب، علم جراحی، علم نقشہ نویسی، فنون لطیفہ کی طر ف آئیں تو ایک طویل فہرست ہے ۔مثال کے طورپر مصوری ،خطاطی،موسیقی، رقص۔ مسئلہ یہ ہوا ہے کہ ہم نے علم کو علم طب تک محدود کردیا ہے۔ یہ رویہ تشویش ناک ہے ۔مرے نزدیک طب کا علم لینا بہت احسن کام مگر کیا ہر بچے کے لے ضروری ہے تو اس علم کے لیے اپنے آپ کو وقف کردے ہر گز نہیں۔۔
ایک متوازن معاشرہ معالج، سائنس دان، ادیب، مفکر، ماہر معاشیات، گلوکار ، تاجر ،اداکر، صحافی، سیاست دان، فوجی اور تجزیہ کار کے کرداروں پر مبنی ہونا چاہے۔ جہاں تک تعلق یہ سماج میں مقام یا اچھے روزگا رکے حصول کا تو اس کا تعلق کسی خاص شعبے سے نہیں ہوتا۔۔فرد کی لگن اور مسلسل انتھک محنت سے کامیابی ملتی ہے۔ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کی مثال لیجئے ،پوری دنیا ان کی سماجی خدمات کی معترف ہے ۔اسی طرح عبدالستار ایدھی کو ایدھی بنانے میں کسی ادارے یا شعبے کا کردا رنہیں، یہ انسان پرستی کا جذبہ تھا جس میں ہماری قوم کو ایسا عظیم المرتب اور بلند حوصلے والا فرد بخشا، ایک اور امر جو ضمن میں نہایت اہم ہے، وہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ابھی تک وہ فضا نہیں جنم لے سکی جس میں والدین اپنے بچے کی صلاحیتوں کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں ان کی پسند کا شعبہ اختیار کرنے میں ان کی رہنمائی کریں۔
اگر والدین اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں تو یقیناً ایک ہی گھر سے ڈاکٹر انجینئر، پائلٹ، بیورو کریٹ، اور آرٹسٹ ملیں گے ۔مجھے اس بات کا بھی شکوہ ہے، اور یہ شکوہ مجموعی معاشرتی رویوں سے ہے کہ ہم نے فنون لطیفہ یعنی آرٹس کی تعلیم کیے ساتھ نہایت برا سلوک کیا ہے۔ایک طالب علم جو اچھی اداکاری کرسکتا ہے۔ اسے اداکار بننے سے روکنا اس کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہوگا۔ اسی طرح گلوکاری ،مصوری اور فلم سازی جیسے نہایت دلچسپ شعبوں کو ہم نے یکسر پس پشت ڈال دیا ہے۔ہم اپنی نسلے نوں کو ان کی پسند کے شعبے اختارکرنے سے روکیں گے تو وہ ہماری مرضی سے اختیار کرنے والے شعبوں میں متعمن اور پر سکون زندگی نہیں گزار سکیں گے۔ اس بات کی وضاحت کے لیے میں ایک مثال آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔ پاکستان کی مشہور مذہبی شخصیت جنید جمشید لاہور سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد موسیقی کی طرف گامزن ہوئے۔ بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔پھر اپنا کاروبار شروع کیا جوکہ کافی کامیاب رہا ۔اب وقت کی نزاکت ہم سے یہ سوال کرتی ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو وہ حوصلہ دیا کہ وہ اُٹھ کھڑے ہوں اور اپنے لیے ایک ٹھوس قسم کا فیصلہ کریں اور ان سب کو غلط ثابت کردیں۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں میں فیصلہ کرنے کی جراٗت اور ہمت نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں