urdu columns today

پاکستان کی امن پسند ی اور جیت – ڈاکٹرابراہیم مغل

از : ابر اہیم مغل
یو ں تو ہما ری فو ج کے تر جما ن میجر جنر ل آ صف کا میڈ یا سے مکمل خطا ب ہی دا نشو ری اور بہا در ی کا مر قع تھا مگر ان کے اس فقرے نے کہ جنگ میں ہا ر جیت کسی کی نہیں ہو تی، صر ف انسا نیت ہا رتی ہے پا کستا ن کے مو قف کو اس قدر وا ضح کر دیا ہے کہ اس کے حد درجہ امن پسند ملک ثا بت ہو نے میں کو ئی گنجا ئش با قی نہیں بچی۔حقیقت یہ ہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے باوجود پاکستان کی جانب سے امن اور مذاکرات کے راستے کا چناؤ بھارت پر ایک بڑی اخلاقی فتح ہے۔ آ ج جبکہ سب ہی سیا سی جما عتیں ایک پیج پر ہیں اور سب ہی مسلسل اس موقف اور سوچ پر قائم ہیں کہ موجودہ عسکری صلاحیتوں کے ساتھ جنگ سوائے وسیع پیمانے پر تباہی کے کچھ نہیں دے سکتی۔ یہ حقیقت پسندانہ نظریہ پاکستان میں صرف اہل سیاست کا نہیں، دفاعی اداروں کا بھی موقف ہے۔ جیسا کہ میں نے او پر بھی بیا ن کیا کہ افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اگلے روز ایک میڈیا بریفنگ میں کہا کہ جنگ میں صرف انسانیت ہارتی ہے۔ مگر امن کی یہ تمنا ہرگز کمزوری نہیں۔ پاک فضائیہ کی حالیہ کارروائیوں نے عملی طور پر یہ ثابت بھی کردیا ہے۔ اس سے قبل بھی ہر موقع پر ہم بھارت پر یہ ثابت کرچکے ہیں کہ پاکستان ہر طرح کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ باوجود تمام تر دفاعی صلاحیتوں کے جارحیت پاکستان کا انتخاب نہیں لیکن دفاع پر سمجھوتے کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔ پچھلے دو ہفتوں کے واقعات پر غور کریں تو ظاہری اور درپردہ طور پر پاکستان کی جانب سے بھارت کو امن کے پے درپے پیغام ارسال کیے گئے مگر ذہنی طور پر شکست خوردہ نریندر مودی امن کی زبان سمجھنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے اور مسلسل چھیڑ چھاڑ میں مصروف ہیں۔ ان حالات میں پاکستان اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرچکا ہے اور جو ضروری ہے کیا جارہا ہے، جیسا کہ اگلے روز مار گرائے گئے بھارتی جنگی طیارے کے زیر حراست پائلٹ کے تاثرات سے دنیا واقف اور آگاہ ہوچکی ہے۔ پاکستان کے خلاف جنگی مشن میں شامل دشمن ملک کے اس فوجی افسر کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے حراست میں لیے جانے کے چوبیس گھنٹے بعد ہی رہائی کا حکم دے دیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے یہ اقدامات جذبۂ خیر سگالی کے زیر اثر ہیں اور پاکستان کی اس سوچ کے گواہ کہ ہم کشیدگی کو طول دینا نہیں چاہتے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے اقدامات یک طرفہ طور پر اور لامحدود مدت کے لیے جاری نہیں رکھے جاسکتے۔ یہ موقع ہے کہ عالمی برادری مؤثر طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے آگے بڑھے کیونکہ پاکستان تحمل کے آخری کنارے پر کھڑا ہے۔ ان حالات میں بھارتی افواج کی جانب سے چھوٹی سی حماقت بھی خطرناک صورتحال پیدا کرسکتی ہے۔

اس صورتحال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان حوصلہ افزا ہے جس میں انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان اور بھارت میں کشیدگی جلد ختم ہوجائے گی۔ مگر اصل حوصلہ افزا بات تو امریکہ اور شمالی کوریا کے سربراہان کے مابین ہنوئی میں ہونے والی ملاقات ہے۔ نریندر مودی جیسے پٹے ہوئے متعصب ذہنوں کے لیے جس میں بڑی نشانیاں ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، مگر بات چیت اور افہام و تفہیم۔ بھارتی عوام کی یہ بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ صرف انتخابی مقبولیت کے حصول کی خاطر ان کا وزیر اعظم ایک جنگ لڑنے کا خواہش مند ہے اور جنگ بھی ایک جوہری قوت کے ساتھ۔ ایسی جنگ کے تباہ کن ہونے کے بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں۔ دنیا کے کسی ملک میں ایسی کوتاہ بین قیادت نہ ملے گی جو انتخابی شکست سے گھبرا کر ملک ہی کو جنگ کی بھٹی میں جھونکنے پر تل جائے۔ بھارت کو اپنی چھیڑی ہوئی اس جنگ میں اب تک منہ کی کھانا پڑی ہے۔ وہ ہار چکا ہے اور سوائے اس کے بھارت کے پاس کوئی راستہ نہیں کہ امن کی طرف آئے اور بات چیت کے دروازے کھولے۔ اس صو رتِ حا ل میں پا کستا ن کا مو قف قا بلِ تعر یف ہے کہ اس نے دو ملکوں کو نہیں، دنیا کے اس پورے خطے کو ناقابل تلافی تصور انجام سے بچانے کی پوری کوشش کی ہے۔ اس صورتحال میں جبکہ دشمن جنگی طیاروں نے ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور بھارت کی جانب سے بے بنیاد افواہوں کے ذریعے پاکستان کی ہتک کا ارتکاب کیا گیا، ہما ری قیا دت نے کمال تحمل کا مظاہرہ کیا اور نپے تلے الفاظ اور انداز میں بھارتی قیادت کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ جنگ کا راستہ دونوں کے لیے تباہی کا باعث بنے گا۔ یہ کہ ہما ری قیا دت نے بھارتی قیادت سے مخاطب ہوکر اگلے روز کہا تھا کہ ’دانش مندی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔‘ مگر یوں لگتا ہے کہ جنگی خبط کا شکار بھارتی قیادت نے ابھی تک حالات سے کچھ نہیں سیکھا، گزشتہ تمام تینوں بھارتی افواج کے اعلیٰ عہدیداروں کی پریس بریفنگ کے بعد کشیدگی طول پکڑنے کے اندیشے بڑھ گئے ہیں، کیونکہ انہوں نے ایک بار پھر بے پرکی اڑائی ہیں اور وہ کوئی ٹھوس ثبوت بھی میڈیا میں پیش نہیں کرسکے۔ ان حالات میں جب پاکستان کی جانب سے جذبہ خیر سگالی کی ہرممکنہ صورت پیش کی جاچکی ہے اور خطے کے ممالک اور عالمی قوتوں کی جانب سے بھی ضبط و تحمل کی تاکید کی جارہی ہے۔ فطری طور پر یہ توقع کی جارہی تھی کہ بھارتی قیادت ہوش سے کام لیتے ہوئے کشیدگی سے پیچھے ہٹ جائے گی، لیکن بھارتی افواج کے عہدیداروں کی پریس کانفرنس امن کے امکانات کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوسکتی ہے۔ قیام امن کی خاطر پاکستان جو کچھ پیش کرچکا ہے، اس سے بڑھ کر کچھ بھی ممکن نہیں، مگر بھارت کا جواب صرف پاکستان کے لیے نہیں دنیا کی تمام مہذب اقوام کے لیے مایوسی اور خطرے کا موجب ہے۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں عالمی طاقتوں کی جانب سے بھارت پر کڑا دباؤ ہی جنوبی ایشیا کو ایک خوفناک جنگ کے کنارے سے ہٹا سکتا ہے۔ بہرحال حکومتِ پاکستان اور پاک فوج نے اب تک اس سارے معاملے کو بڑی احتیاط کے ساتھ نہایت کامیابی سے آگے بڑھایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی قیادت بیک فُٹ پر چلی گئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بار بار امن کی بات کی، دو ہفتوں میں دوبارہ بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی، یہ کہا کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت پر صرف رد عمل ظاہر کیا ہے، کوئی جارحانہ پیش رفت نہیں کی اور سب سے بڑھ کر گرفتار کیے گئے بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا جو عندہ دیا ہے اس نے عالمی برادری کو یہ گہرا تاثر دیا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے؛ تاہم یہ سفارتی کامیابیاں ایک طویل عمل کا محض آغاز ہیں۔ اس سلسلے کو سرگرمی کے ساتھ اور تسلسل سے جاری رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ بھارت کو نہ صرف دہشت گردوں کی پشت پناہی سے روکا جاسکے، بلکہ مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب بھی لایا جاسکے پورے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور مستحکم ترقی کے لیے جو ناگزیر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں