Govt High School Building

حکومت پاکستان کی تعلیمی پالیسی کتنی مؤثر- uae urdu

تحریر : ارشد فاروق بٹ

ای ٹرانسفر، ای سروس بک، ای پروموشن، ای لیو، آن لائن ٹریننگ، ای ریٹائرمنٹ اور یکساں نصاب تعلیم جیسی اصلاحات گزشتہ تین سال سے پہلے عرف عام نہیں تھیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت تعلیمی میدان کو ڈیجیٹلائز اور ماڈرنائز کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

آن لائن سسٹم کے فوائد

جملہ امور آن لائن ہونے سے کرپشن کے کئی باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گئے ہیں اور اہم عہدوں پر براجمان بیورو کریسی کی مداخلت اور سرکاری کاموں میں رخنہ ڈالنے کے سرخ فیتے بھی بند کر دیے گیے ہیں۔

حکومت نے مندرجہ بالا امور کو آن لائن نپٹانے کے لیے سس پنجاب کے نام سے ایک ایپلیکیشن متعارف کرائی ہے جہاں سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کا مکمل ریکارڈ محفوظ کیا گیا ہے۔ اس کا براہ راست اثر بیوروکریسی پرپڑا ہے جس کا سلسلہ کلرک سے شروع ہو کر ضلع کے اعلی افسران تک پھیلا ہوا ہے۔

جملہ امور آن لائن ہونے سے قبل اگر کوئی ٹیچر تبادلے، پروموشن یا ریٹائرمنٹ کے لیے درخواست دیتا تو چالیس ہزار سے ایک لاکھ تک رشوت دینا پڑتی۔ اگر کسی ٹیچر پر ایمانداری کا بھوت سوار ہوتا تو اس کی فائل کلرک کی دراز سے آگے نہ بڑھتی۔ پھر چاہے وہ ڈی سی آفس کے چکر لگاتا یا کمشنر آفس کے، سٹیٹس کو اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ رائج تھا۔

گزشتہ تین سال کے دوران بے شمار کلرکوں کے تبادلے کیے گئے جو محکمے میں مافیا بن چکے تھے۔ ان کلرکوں کے پاس جدید ماڈلز کی پرتعیش گاڑیاں اور بنگلے ہیں جن کا کبھی کسی محکمےنے حساب کتاب نہیں لیا۔ انکی مضبوط ترین تنظیم ایپکا کے سامنے ایجوکیشن افسران بھی بے بس تھے۔

جملہ امور آن لائن ہونے سے تبادلوں، پروموشن اور ریٹائرمنٹ جیسے اہم امور کا اختیار ضلعی افسران سے واپس لے لیا گیا ہے۔ جس سے سسٹم میں موجود مافیاز کا اخراج ہو چکا ہے۔ اب ایک ٹیچر گھر بیٹھے کسی بھی سروس کے لیے آن لائن اپلائی کر سکتا ہے اور محکمہ دیے گیے ٹائم فریم میں اس کا جواب دینے کا ذمہ دار ہے۔

آن لائن سسٹم کے نقصانات

سروسز ڈیجیٹلائز ہونے سے جہاں کئی ایک شعبوں میں فائدہ ہوا ہے وہیں اساتذہ اور پرنسپل صاحبان کو کچھ شکایات بھی ہیں۔ کچھ ہیڈ ماسٹر صاحبان کے خیال میں حکومت اینڈرائیڈ ایپلی کیشنز کو پروموٹ کرنے کے لیے غیر اہم فرائض کی ادائیگی پر مجبور کر رہی ہے جس کی ایک واضح مثال ڈینگی ایپ ہے۔ جہاں ہر سکول کو بیسیوں تصاویر اپلوڈ کرنی ہوتی ہیں اور اگر نہ کی جائیں تو ڈیفالٹر لسٹ میں نام آ جاتا ہے۔ تصاویر اپلوڈ کا کام چھٹیوں میں بھی فرض ہے جس کے لیے ہیڈ ماسٹر صاحبان کو دور دراز علاقوں سے محض تصاویر لینے کے لیے سکول آنا پڑتا ہے۔

دوسرا بڑا مستلہ محکمہ تعلیم کا وٹس ایپ پر آنا ہے۔ اب تمام سرکاری آرڈرز وٹس ایپ پر دیے جا رہے ہیں۔ وٹس ایپ گروپس کی بھرمار پرنسپل صاحبان کے لیے بے شمار مسائل پیدا کر رہی ہے۔ اور ان گروپس سے اپنے سکول سے متعلق ہدایات ڈھونڈنا جوئے شیر لانے کے مترادف اور وقت کے ضیاع کا باعث ہے۔ تعلیمی اداروں کے سربراہان کی تمام توانائیاں انہی دو امور پر خرچ ہو رہی ہیں۔

سکولوں کی اپ گریڈیشن

حکومت کے کچھ منصوبہ جات محض الیکشن کمپین ہی نظر آتے ہیں جس کی مثال سکولوں کی اپ گریڈیشن کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ پنجاب بھر میں بیسیوں مڈل سکولوں کو ہائی سکول کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ لیکن ان سکولوں کو نئی ضروریات کے مطابق نہ تو عمارت دی گئی ہے اور نہ ہی کمپیوٹر لیبز، فزکس، کیمسٹری اور بائیو لیبز کا کوئی منصوبہ زیر غور ہے۔ اور تو اور ہائی سکول کا سٹاف بھی فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی ڈی ڈی او پاورز دی گئی ہیں۔
عملا ان اپ گریڈ ہونے والے سکولوں کا صرف بیرونی بورڈ تبدیل کیا گیا ہے جہاں مڈل کی بجائے اب ہائی سکول لکھا نظر آتا ہے۔ حکومت نے ان سکولوں کو سٹاف، عمارت اور لیبز کی ذمہ داری کا ملبہ 2023 میں نئی آنے والی حکومت پر ڈال دیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ حکومت کے پاس سکولوں کو دینے کے لیے بجٹ نہیں ہے۔ ہر شہر میں کروڑوں روپے لاگت سے جمنیزیم اور کمیونٹی ہال بنائے جا رہے ہیں جس سے حکومت کی ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے۔

یکساں نصاب تعلیم

حکومت پاکستان مختف طبقات کے درمیان تفاوت ختم کرنے کے لیے یکساں نصاب تعلیم کو مرحلہ وار رائج کر رہی ہےجس میں دور جدید کے تقاضوں کے بجائے ریاست کے اپنے مفادات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ ہمارا نصاب تعلیم ابھی تک متروک اشیاء کے گرد گھومتا ہے۔ دنیا ڈیجیٹل مارکیٹنگ سے ہوئی ای کامرس کے دور میں داخل ہو چکی ہے اور ہم ابھی تک بچوں کو اٹھاہویں صدی کے سائنسدانوں اور متروک ڈیوائسز کے نام یاد کرا رہے ہیں۔

Guest Post on High Authority Website with Dofollow Backlink

ایڈیٹر سعد رمضان

سعد رمضان
سعد رمضان کرغیزستان میں میڈیکل کے طالب علم ہیں۔ یو اے ای اردو پر آپ صحت کی خبریں اپڈیٹ کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے