حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی

کومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی، اوگرا کی سمری کے برعکس وزارت خزانہ نے پیٹرول کی قیمت میں 4روپے26 پیسے فی لیٹر اضافے کی منظوری دی، یکم جون سے پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 112روپے68پیسے ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے عیدالفطر سے قبل رات بارہ بجے کے بعد عوام پر ایک اور پٹرول بم گرانے کا اعلان کر دیا ہے۔
عوام پر پیٹرول بم پھینک دیا گیا ہے۔ اوگرا کی جانب سے وزارت خزانہ کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری گزشتہ روز بھیجی گئی تھی۔ اوگرا نے وزارت خزانہ کو پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کی سمری بھیجی تھی۔ اب وزارت خزانہ نے اوگرام کی سمری پر غور و فکر کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔
تاہم وزارت خزانہ کی جانب سے اوگرا کی تجویز کردہ قیمتوں مقرر نہیں کی گئیں۔ حکومت نے اوگرام کی سمری کے برعکس تجویز کردہ قیمتوں میں آدھا اضافہ کیا ہے۔ وزارت خزانہ کی منظوری کے بعد پٹرول کی قیمت میں 4روپے26 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 50 پیسے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت میں 1 روپیہ 69پیسے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 1 روپیا68 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کی منظوری کے بعد پٹرول کی نئی قیمت112روپے68پیسےفی لیٹر، ڈیزل کی نئی قیمت 126 روپے 82 پیسے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت 98 روپے 46پیسے فی لیٹر ، لائٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 88 روپے 62 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں کی شرح میں رد و بدل بھی کیا گیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل پر سیلز ٹیکس کی شرح 13فیصد کردی گئی ہے جبکہ مٹی کے تیل اورلائٹ ڈیزل آئل پر جی ایس ٹی کی شرح 17فیصد کر دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 99 پیسے فی لٹر اضافے کی سفارش کے بعد نئی قیمت 131 روپے 31 پیسے فی لٹر تجویز کی گئی تھی۔ پٹرول کی قیمت میں 8 روپے 53 پیسے فی لٹر اضافے کی سفارش سے نئی قیمت 116 روپے 95 پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک روپے 69 پیسے فی لٹر اضافے کی سفارش سے نئی قیمت 98 روپے 46 پیسے فی لٹر کرنے کی تجویز جبکہ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپیہ 68 پیسے فی لٹر اضافے کی سفارش سے نئی قیمت 88 روپے 62 پیسے فی لٹر تجویز کی گئی تھی

اپنا تبصرہ بھیجیں