نواز شریف کی رہائی کس کے لیے خطرہ

تحریر : ارشد فاروق بٹ
کسی گاوں میں ایک دروغ گو رہتا تھا۔ لوگوں نے اس کی دروغ گوئی سے تنگ آ کر اسے گاوں سے نکال دیا۔ برسوں بعد اسے گاوں کی یاد ستائی تو آ نکلا۔ ایک بوڑھی عورت نے اسے پہچان لیا اور اپنے گھر لے آئی۔ اسے کھانا کھلایا، چائے پلائی۔ کھانے کے بعد دروغ گو اس بوڑھی عورت سے یوں گویا ہوا :
“محترمہ آپ کی مہمان نوازی کا شکریہ۔ ویسے تو آپ پینتیس سال کی ہونگی لیکن لگتی پچیس سال کی ہیں”
بوڑھی عورت یہ سن کر رونے لگی اور روتے روتے آنسو پونچھتے ہوئے بولی:
“گاوں میں ایک ہی سچا آدمی تھا لوگوں نے اسے بھی نکال دیا۔”
اس واقعے کا موجودہ سیاسی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ محض قارئین کی دلچسپی کے پیش نظر رقم کر دیا ہے۔
بیماری یعنی زحمت بھی تو باعث رحمت ہوتی ہے۔ اسی وسیلے کے طفیل سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف دبئی کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ لاکھوں دلوں کی دھڑکن خوبرو اداکارہ ایان کی صحت خراب ہوئی تو وطن عزیز کا عدالتی سسٹم رو رو کے ہلکان ہو گیا۔
اسی بیمار وسیلے کے طفیل مشکلات میں پھنسے سابق وزیراعظم نواز شریف کو سپریم نے چھ ہفتوں کے لیے رہا کر دیا ہے۔ رعایتی وقت ختم ہونے پر وہ دوبارہ کوٹ لکھپت جیل چلے جائیں گے جہاں وہ العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
دوران سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کے دلچسپ ریمارکس قابل ذکر ہیں کہ نیب کے سارے ملزم بیمار ہو جاتے ہیں اور نیب کو چاہئے کہ ایک اچھا ہسپتال بنا لے۔
لیکن یہ بیماری اچھے ہسپتال سے کہاں ٹھیک ہوتی ہے، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ کارکنان کنفیوزڈ ہیں کہ مٹھائی کھائیں یا سر پیٹیں۔ بہت سے تنگ آکر قبلہ تبدیل کر چکے ہیں۔
اب جبکہ شیر پنجرےسے باہر آ چکا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس کا شکار کرتا ہے۔ انکی رہائی کس کے لئے خطرہ بن سکتی ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے طویل محاذ آرائی کرنے والے سابق وزیراعظم نواز شریف اس معمولی ریلیف کے لیے کیسے رضامند ہو گئے۔

سیاست دان اور فوٹو گرافر میں ایک قدر مشترک ہوتی ہے۔ دونوں بہترین وقت کا انتظار کرتے ہیں اور جونہی وہ لمحہ آتا ہے گھات لگائے بیٹھا سیاست دان اور فوٹو گرافر اپنے شکار پر جھپٹ پڑتا ہے۔ تو کیا نوازشریف نے درست وقت کا انتخاب کیا ہے؟
یہ درست ہے کہ تبدیلی کا جنون ٹھنڈا پڑ چکا ہے، حکومت کو آئے ایک سال ہونے کو ہے اور ابھی تک عوام کو ریلیف نہیں مل سکا۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ عوامی بے چینی ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچی کہ لوگ کسی حکومت مخالف تحریک کا حصہ بن سکیں خصوصا اس صورتحال میں کہ اپوزیشن کو عوام پہلے ہی آزما چکے ہیں۔
نواز شریف کی رہائی کسی ڈیل کا نتیجہ ہے یا کورٹ کچہری میں روزانہ پیش آنے والے ہزاروں واقعات کی طرح یہ محض ایک واقعہ ہے، اس کا اندازہ آئندہ چند روز میں ہو جائے گا۔ نوازشریف بیرون ملک چلے جائیں گے یا واپس جیل لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ شطرنج کی بازی ہار چکے ہیں۔
پارٹی کے اندر شہباز شریف کے زیرسایہ متبادل قیادت، فوج مخالف بیانیہ، کرپشن کیسز اور سونامی کا عذاب وہ سنگین مسائل ہیں جن کی وجہ سے فی الوقت نوازشریف حکومت کے لیے بڑا خطرہ نہیں رہے۔ مائنس ون کا فارمولہ اپنا کام دکھا چکا ہے۔ ہو سکتا ہے مستقبل قریب میں ہمیں انکی کوئی غزل پڑھنے کو ملے۔
کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

اپنا تبصرہ بھیجیں