urdu columns

پنشمنٹ آف خپل

ارشد فاروق بٹ :
ایک ایرانی بادشاہ نے اپنے اقتدار کے پہلے برس ایک معمار خپل کو ایک خوبصورت اور عالیشان محل بنانے کا کام سونپا ۔ چار برس بیت گئےلیکن محل کی تعمیر مکمل نہ ہوسکی، ایک روز شاہ اچانک اپنے محل کو دیکھنے آنکلا، خپل اپنے کاریگروں کے ہمراہ خوش گپیوں میں مصروف تھا، فارغ البالی کے نشے میں دھت خپل اور عملہ کہانیوں اور شعروشاعری کی محفل جمائے شاہ کی آمد سے بے خبر رہا. علم ہونے پر خپل نے شاہ کی خوشامد کی اور نامکمل اور جھاڑیوں سے بھرے محل کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے. بادشاہ نے بھی انجان بننے کا دکھاوا کیا اور عمدہ کام کرنے پر خپل کی تعریف کی اور جھاڑیوں کو پھول کہتے ہوئے خپل کو انہیں سونگھنے کا حکم دیا جس سے خپل کی ناک سرخ ہوگئی، الغرض بادشاہ اس کی تعریف کرتا گیا اور اسے اذیت ناک مراحل سے گزارتا گیا.

نیت پہ شک نہیں لیکن اقتدار کے پہلے برس ہی پاکستانی خپل کی کارکردگی شدید تنقیدکی زد میں ہے. حکومت کے بس میں ہو تو مئی اور جولائی کو کیلنڈر سے نکلوا دے. اپوزیشن اتحاد، روپے کی قدر میں لگاتار گراوٹ، مہنگائی، تیل وگیس کی تلاش میں ناکامی اور سٹاک مارکیٹ کی مندی نے حکومت کے اوسان خطا کر دیے ہیں.

کسی بھی حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے تین بڑے معیار ہیں، معیشت، امن و امان کی صورتحال اور عوام کو ریلیف، فی الوقت حکومت اس پوزیشن میں بھی نہیں ہے کہ بجٹ پیش کر دے. روپے کی قدر مسلسل گرنے سے تنخواہ دار طبقہ پس گیا ہے جن کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ بھی شاید اس خلا کو پر نہ کر سکے جو روپے کی قدر میں حالیہ گراوٹ اور مہنگائی کے طوفان کی صورت میں سامنے آیا ہے.

حکومت کی ڈولتی نیا کو دیکھتے ہوئے مسلم لیگ ن بھی میدان میں آ گئی ہے اور مریم نواز کو اہم ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں. مریم نواز آج اہم پارٹی رہنماؤں کے اجلاس میں بھی شریک ہوں گی جس میں حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔ جبکہ وہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے قومی سیاست دانوں کے اعزاز میں دیے جانے والے افطار ڈنر میں بھی شرکت کریں گی۔

سوال یہ ہے کہ اگر حکومت اپنے پہلے سال ہی ناکام ہو جاتی ہے تو اسے لانے والی طاقتوں کی اگلی حکمت عملی کیا ہوگی. کیا اس دن کو دیکھنے کے لیے اتنی محنت کی گئی؟

یہ درست ہے کہ فیس بک کی طرف سے 103 سے زائد گروپ اور پیجز بند ہونے کے بعد مقتدر قوتیں خاصی پریشان ہیں، یقینا ڈیجیٹل ورلڈ میں یہ ایک بہت بڑا نقصان ہےجہاں آپ کئی ایک محاذوں پر مصروف جنگ ہوتے ہیں. دوسری جانب شادی ہال اور ملک بھر میں پھیلے کاروبار کے بارے میں بھی پوچھا جا رہا ہے. اس پر مزید باغیوں نے ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے خاصی توجہ حاصل کر لی ہے، اس لیے مقتدر قوتیں اپنے مسائل کا شکار ہیں.

لیکن ان کے پاس دماغوں کی کمی نہیں، اور نہ ہی یہ مقتدر قوتیں اتنی نااہل ہیں کہ خپل سے کام نہ لے سکیں. لیکن ڈالر کی پرواز بتا رہی ہے کہ دست شفقت اب سر پہ نہیں رہا.

بظاہر یہی لگتا ہے کہ پلان چینج ہو گیا ہے، معمار خپل سے ملک چلانے کا ٹھیکہ کس کو منتقل ہوتا ہے جلد واضح ہو جائے گا.
سبھی کردار کُھلتے ہیں کہانی ختم ہونے پر …!!!

یہ بھی پڑھیے : مسلم لیگ ن بند گلی میں، خلاصی کیسے ہو؟

اپنا تبصرہ بھیجیں