پنجاب میں حکومت کا تختہ الٹنے کا ٹاسک دے دیا گیا

لاہور (یواےای اردو ) سابق وزیراعظم نوازشریف کی سپریم کورٹ سے چھ ہفتوں کی ضمانت منظور ہو چکی ہے اور وہ اس وقت بظاہر اپنے علاج معالجے میں مصروف ہیں تاہم سینئر صحافی عمران یعقوب خان نے نوازشریف اور سینئر رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں بڑا دعویٰ کر دیا ہے ۔
نجی ٹی وی ”جی این این “ کے پروگرام میں خاتون اینکر نے سوال کیا کہ ”سنا ہے کہ پنجاب حکومت پر خطرے کی تلوار لٹک رہی ہے “؟ جس پر سینئر صحافی عمران یعقوب خان نے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ :

”ہمارے واقفان اعلیٰ نے پنجاب اسمبلی سے حال سنایا ہے ، اس کے پیچھے نوازشریف کی سیاست ہے ، نوازشریف نے اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ ملاقات اور مشورے کیے ہیں اور شہبازشریف کے ساتھ چیزیں طے ہو گئی ہیں ، اس دوران شہبازشریف کی کارکردگی کو بہت سراہا گیاہے کہ آپ نے بہت اچھے طریقے سے چیزیں سنبھالی ہیں اور اس طرح کام کرتے رہیں ۔“

عمران یعقوب خان کا مزید کہناتھا کہ دوسرا انہوں نے یہ کہاہے کہ پنجاب میں حکومت الٹنے کی کوشش کی جائے اور ن لیگ کی حکومت لائی جائے ، اس پر کچھ لوگوں کو ٹاسک بھی دیدیے گئے ہیں ۔ سب سے پہلے انہوں نے کہاہے کہ پنجاب میں آزاد حیثیت جو ایم پی اے ہیں جن میں جگنو محسن ، لیہ سے کامیاب ہونے والے احمد علی اولک جوک پہلے ن لیگ میں ہوتے تھے لیکن اس مرتبہ انہوں نے آزاد الیکشن جیتا ہے ، ملک عباس ، بلال اصغر ، جھنگ سے راہ حق پارٹی کے ایم پی اے شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے دو اقلیتی ممبران ہیں جو کہ پارٹی سے ناراض ہیں ، ان کیلئے خلیل طاہر سندھو کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے کہ وہ ان دونوں سے رابطہ کریں اور ہمدردیاں حاصل کریں تاکہ وہ ہماری حمایت کریں ۔
اس کے علاوہ پی ٹی آئی کا ایک گروپ ہے جو کہ اکاموڈیٹ نہ ہونے کے باعث حکومت سے ناراض ہے اور وہ اس کا اظہار بھی کر چکا ہے ، اس کیلئے مختلف لوگوں کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سطح پر ان سے رابطے کریں ۔
سینئر صحافی کا کہناتھا کہ اس میں سب سے دلچسپ بات چوہدری برادران ہیں ، نوازشریف نے بہت ہی قریبی ساتھیوں کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ وہ چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کریں کیونکہ پرویز الہیٰ کی وزیراعظم عمران خان سے جو ملاقات ہو ئی ہے وہ اس سے خوش نہیں ہیں کیونکہ وفاق سے ان کے ساتھ کیے جانے والے وعدے پورے نہیں ہوئے اور ق لیگ کے پاس د س سیٹیں موجود ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں