Dubai Ocean
Pakistani Passengers are worried when the UAE will uplift the ban.

دبئی : پاکستانی مسافروں پر پابندی کی وجوہات – uae urdu

دبئی (یو اے ای اردو – 13 جولائی 2021 – ارشد فاروق بٹ) گذشتہ دو ماہ کے دوران متحدہ عرب امارات کی قومی ایئرلائنز کی جانب سے پاکستانی مسافروں کے لیے مختلف فیصلوں کے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ اتحاد ایئر ویز نے پروازوں پر پابندی میں غیر معینہ تک توسیع کر دی ہے جبکہ امارات ایئر لائن نے 7 اگست تک پروازوں پر پابندی کا اعلان کر رکھا ہے.

متحدہ عرب امارات کی ایئرلائنز کی جانب سے بدلتے بیانات سے پاکستانی مسافر پریشانی کا شکار ہیں. پروازیں شروع کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے اور پھر پتا چلتا ہے کہ حکومت کی جاری کردہ نئی پالیسی کی وجہ سے پابندی میں توسیع کر دی گئی ہے ۔ مختلف تجزیہ کاروں میں متحدہ عرب امارات کی پاکستان کے بارے میں بدلتی پالیسی پر تشویش پائی جاتی ہے اور انہوں نے پاکستانی مسافروں پر پابندی کی کچھ وجوہات کا اندازہ لگایا ہے.

  1. متحدہ عرب امارات چاہتا ہے کہ پاکستان پی سی آر ٹیسٹ کے نظام کو شفاف بنائے اور غیر تصدیق شدہ لیبارٹریز کا خاتمہ کرے۔
  2. متحدہ عرب امارات کی بے رخی کی بڑی وجہ سیاسی بھی ہے.
  3. اسلام آباد نے قطر سے اپنے تعلقات کو بہتر کیا ہے جس سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ناراض ہیں۔
  4. وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا مسئلہ کشمیر پربیان اور او آئی سی کے کردار پر تحفظات کا اظہار بھی ناپسند کیا گیا.
  5. پاکستان نے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالامپور میں جاری سمٹ میں شرکت کا فیصلہ کیا جو سعودی دباؤ کے باعث واپس لینا پڑا.
  6. پاکستان کے قومی ٹی وی کی جانب سے ترکوں کے ارتغل غازی کی پروموشن پر بھی سعودی حکومت کو تحفظات ہیں.
  7. پاکستان میں لگائی جانے والی سائنو ویک ویکسین کو ابھی تک یواے ای میں منظوری نہیں مل سکی.

متحدہ عرب امارات کی ہنگامی کرائسز اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے اعلان کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات آنے والی تمام پروازوں کے مسافر لانے پر اس وقت تک پابندی عائد رہے گی جب تک پاکستان بیرون ملک جانے والے تمام مسافروں کے کورونا کے لیبارٹری ٹیسٹ کرنے کا نظام وضع نہیں کرتا۔

مسئلہ کورونا کے ٹیسٹ کا نہیں بلکہ مستند لیبارٹری سے کورونا کے مستند ٹیسٹ کا ہے جس پر متحدہ عرب امارات اعتبار کر سکے اور اس کی عدم موجودگی کی وجہ سے مسافروں کو شدید پریشانی اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کی لیبارٹریوں سے کرونا نیگیٹو کی رپورٹ لے کر جانے والے مسافروں کے جب دوبارہ ٹیسٹ کیے گئے تو کچھ مسافرکرونا پازیٹو تھے.

متحدہ عرب امارت میں سائنو فارم، فائزر، آسٹرازینیکا، ماڈرنا اور سپتنک منظور شدہ فہرست میں شامل ہیں. تاہم پاکستان میں اب سے کچھ ہفتے قبل سائنو ویک لگائی جا رہی تھی جو کہ امارات میں منظور شدہ نہیں ہے. اس سلسلے میں فلائٹس اوپن کرنے کے اعلان سے پہلے یو اے ای حکومت ایک جامع پالیسی جاری کرے گی.

پاکستانی مسافروں پر پابندی کی اصل وجہ کچھ بھی ہو، حکومت پاکستان کو ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے. دیکھا گیا ہے کہ ابھی تک حکومت پاکستان نے پاکستانی مسافروں کی مشکلات آسان کرنے کے لیے سفارتی سطح پر کوئی قدم نہیں اٹھایا.

ایڈیٹر ارشد فاروق

ارشد فاروق
ارشد فاروق بٹ کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ یو اے ای اردو ویب سائٹ پر آپ خبروں کی کیٹیگری اپڈیٹ کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے