urdu poetry

وصل جتنے قلیل ہوتے ہیں

وصل جتنے قلیل ہوتے ہیں
ہجر اتنے طویل ہوتے ہیں
دل میں ارمان جو مچلتے ہیں
شہر غم کی فصیل ہوتے ہیں
زیر لب مسکراہٹوں کے ہجوم
چاہتوں کے وکیل ہوتے ہیں
راہ حق سے نہیں بھٹکتے وہ
جو بھی تیرے خلیل ہوتے ہیں
منزل کاروان الفت میں
فاصلے کیوں دخیل ہوتے ہیں
غم ہی تاریک راہگزاروں پر
روشنی کے کفیل ہوتے ہیں
یاد شبیر میں جو اشک بہیں
مغفرت کی دلیل ہوتے ہیں
ان کا دامن ہے داغدار عزیز
جو بظاہر شکیل ہوتے ہیں
شاعر: رحمت علی عزیز

اپنا تبصرہ بھیجیں