وصل جتنے قلیل ہوتے ہیں

وصل جتنے قلیل ہوتے ہیں
ہجر اتنے طویل ہوتے ہیں
دل میں ارمان جو مچلتے ہیں
شہر غم کی فصیل ہوتے ہیں
زیر لب مسکراہٹوں کے ہجوم
چاہتوں کے وکیل ہوتے ہیں
راہ حق سے نہیں بھٹکتے وہ
جو بھی تیرے خلیل ہوتے ہیں
منزل کاروان الفت میں
فاصلے کیوں دخیل ہوتے ہیں
غم ہی تاریک راہگزاروں پر
روشنی کے کفیل ہوتے ہیں
یاد شبیر میں جو اشک بہیں
مغفرت کی دلیل ہوتے ہیں
ان کا دامن ہے داغدار عزیز
جو بظاہر شکیل ہوتے ہیں
شاعر: رحمت علی عزیز

زوہیب بٹ

https://www.uaeurdu.com

زوہیب بٹ یواےای اردو ویب سائٹ کے ایڈمن ہیں اور گزشتہ بیس سال سے کاروبار کے سلسلے میں دبئی میں مقیم ہیں

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے