سعودی عرب میں 32 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن پکڑے گئے

سعودی عرب میں غیر قانونی تارکین کے خلاف گھیرا روز بروز تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ تارکین کتنے بھی چھُپ کر کیوں نہ بیٹھے ہوں، پولیس کی جانب سے انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی گرفتاریاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ سعودی وزرارت محنت و سماجی بہبود کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 26صفر 1439ھ سے لیکراب تک مملکت بھر میں مجموعی طورپر 32 لاکھ2ہزار192 تارکین وطن گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
اس آپریشن میں مملکت کی 19 سے زائد سیکیورٹی ایجنسیاں اور مختلف سرکاری و نجی ادارے حصّہ لے رہے ہیں جن میں سعودی وزارت محنت اور محکمہ جوازات بھی شامل ہیں۔گزشتہ 18 ماہ سے ’غیر قانونی تارکین وطن سے پاک مملکت‘ کے نام سے جاری اس مہم میں اب تک 8 لاکھ 4 ہزار360 افرادکو گرفتار کیے جانے کے بعد ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔
اقامہ کی خلاف ورزی کی بناءپر گرفتار کیے گئے افراد کی گنتی 24 لاکھ 95 ہزار سے زائد ہو گئی ہے جبکہ 4 لاکھ 94 ہزار سے زائد افراد قانونِ محنت کی خلاف وزی پر گرفتار کیے گئے۔
جبکہ 53 ہزار260افراد مملکت میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے اور 23 سو57 مملکت سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار ہوئے۔مملکت میں دراندازی کی کوشش کے دوران گرفتار کیے جانے والوں میں سے 49فیصد یمنی، 48فیصد ایتھوپین اور باقی دیگر ممالک کے تھے۔ جبکہ 38 سو کے قریب افراد غیر قانونی تارکین کو پناہ دینے، انہیں ٹرانسپورٹ کی سہولت دینے اور ملازمتیں فراہم دینے کے الزام میں گرفتار کیے گئے ہیں۔ اس وقت مملکت کے مختلف قید خانوں میں 11,860 غیر قانونی تارکین وطن رکھے گئے ہیں، جن میں سے مردوں کی گنتی 10,196 ہے جبکہ خواتین کی گنتی 1,664 نوٹ کی گئی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق مملکت میں کسی ایک بھی شخص کو غیر قانونی رہائش اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں