A mosque at uae bus stop

یو اے ای سیاحتی ویزوں کے اجراء میں پاکستانی نظر انداز

تحریر : ارشد فاروق بٹ

متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانیوں پر عائد وزٹ ، سیاحتی اور ریزیڈنشل ویزوں پر پابندی ختم ہوئے 10 روز گزر چکے ہیں۔ تاہم ویزہ اپلائی کرنے والے بیشتر پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ ان کا ویزہ ایک ہفتے سے ان پراگریس ہے اور منظور نہیں ہو رہا۔ چند مسافروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کا ویزہ بغیر کسی وجہ کے مسترد کر دیا گیا۔

متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی جانب سے بنائے گئے سوشل میڈیا پیجز پر پاکستانی اپنے وزٹ اور سیاحتی ویزوں کا سٹیٹس اپڈیٹ کر رہے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت پاکستانیوں کے ویزے منظور کرنے میں لیت ولعل سے کام لے رہی ہے۔ پاکستانیوں کے ویزے مسترد کرنے یا تاخیر کا شکار کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی جا رہی۔ تاہم مختلف ذرائع سے حاصل شدہ معلومات سے کچھ وجوہات کا تعین کرنا ممکن ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے کا ریکارڈ اگر دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھارتی شہریوں کو ترجیحی بنیادوں پر ویزے جاری کیے جا رہے ہیں جبکہ پاکستانیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

2 ستمبر کو پاکستان، بھارت اور چین کے شہریوں نے یو اے ای وزٹ کے لیے درخواست دی۔ پاکستانیوں کے ویزے سات دن بعد بھی ان پراگریس اور بلیک لسٹ چیک ڈیپارٹمنٹ میں ہیں ، جبکہ چین اور بھارت کے شہریوں کےویزے دو دن میں منظور کر لیے گئے۔ اسی طرح انگلینڈ اور دوسرے ممالک کے لیے بھی یو اے ای کے سیاحتی ویزے فوری جاری ہو رہے ہیں۔

ایسے پاکستانی شہری جن کی عمر 40 سال سے کم ہے ان میں سے اکثر کے ویزے یو اے ای کی جانب سے مسترد کیے جا رہے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ متحدہ عرب امارات کی کوشش ہے کہ ملازمت کی تلاش میں یو اے ای وزٹ اور سیاحتی ویزوں کا استعمال کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے تاکہ ویزے کا مقصد فوت نہ ہو جائے۔ ملازمت کے لیے پاکستانیوں کو درست پلیٹ فارم کا استعمال کرنا چاہئے جو کہ ای مائیگریٹ اور آن لائن ریکروٹمنٹ پورٹل ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر پاکستانیوں کے ویزے مسترد کیے جانے کی یہ وجہ ہے تو اس کا نشانہ صرف پاکستان ہی کیوں؟ بھارتی شہری بھی ملازمت کی تلاش میں وزٹ اور سیاحتی ویزوں کا ہی سہارا لیتے ہیں۔اس دو قومی نظریے پر پاکستانی متحدہ عرب امارات سے سخت خفا ہیں اور پاکستان کی حکومت سے امید رکھتے ہیں کہ وہ سفارتی چینل کو متحرک کر کے پاکستانیوں کی مشکلات کا ازالہ کرے گی۔

پاکستانیوں کے ویزے تاخیر کا شکار کیے جانے کی دوسری بڑی وجہ ورک لوڈ بتائی جا رہی ہے۔ چار ماہ بعد یو اے ای نے ویزوں پر پابندی ہٹائی ہے اور اچانک سے ہزاروں پاکستانیوں نے ویزوں کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کروا دی ہیں۔ تاہم یہ وجہ بادی النظر میں معقول نہیں لگتی کیونکہ یہ وجہ مسترد کیے جانے والے ویزوں کا جواز نہیں ہو سکتی۔

ایڈیٹر ارشد فاروق

ارشد فاروق
ارشد فاروق بٹ کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ یو اے ای اردو ویب سائٹ پر آپ ویزہ گائیڈ اور اردو نیوز کی کیٹیگری اپڈیٹ کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے