what is uae done based visa

اگر یو اے ای وزٹ ویزہ منظور نہیں ہو رہا تو کیا ڈن بیسڈ ویزہ بہتر متبادل ہے؟

دبئی ( یو اے ای اردو – 20 ستمبر 2021 – ارشد فاروق بٹ) متحدہ عرب امارات کی جانب سے 35 سال سے کم عمر پاکستانیوں کی وزٹ ویزہ درخواستوں کو نظر انداز کرنے سے مسافر پریشانی کا شکار ہیں. ایکسپو 2020 میں ہزاروں جابز آ رہی ہیں اور بیشتر پاکستانی وزٹ ویزہ پر یو اے ای جا کر اپنی قسمت آزمانا چاہتے ہیں.

اگر آپ کا نارمل وزٹ ویزہ منظور نہیں ہو رہا تو کیا ڈن بیسڈ ویزہ بہتر متبادل ہے؟ اس سوال کا جواب ہم گزشتہ کئی دنوں سے تلاش کر رہے تھے اور بالآخر ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ آپ کو ایک غیر جانبدارانہ رائے دے سکیں.

اس حوالے سے ہم اپنے ممبرز کے تجربات براہ راست آپ سے شیئر کر رہے ہیں. یو اے ای اردو وٹس ایپ گروپ میں موجود ایک ممبر منیب اللہ خلجی ہیں جو حال ہی میں پشاور باچا خان ایئرپورٹ سے شارجہ پہنچے ہیں. ان کا کہنا ہے کہ دبئی میں موجود ان کے بھائی نے ان کے لیے ایک ٹریول کمپنی کے ذریعے ڈن بیسڈ ویزہ اپلائی کیا تھا جو کہ 24 گھنٹے میں منظور ہو گیا. اس پہ ایک تفصیلی تحریر ہم پہلے ہی پبلش کر چکے ہیں جو کہ آپ مندرجہ ذیل لنک پر کلک کرکے پڑھ سکتے ہیں.

23 سالہ پاکستانی منیب یو اے ای وزٹ ویزہ حاصل کرنے میں کامیاب

اس کے علاوہ کچھ اور ممبرز نے بھی اپنےویزے ہم سے شیئر کیے ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ انہیں یہ ویزے ڈن بیسڈ پہ ہی ملے ہیں. مثال کے طور پر یو اے ای اردو فیس بک پیج کی درج ذیل پوسٹ کا سکرین شاٹ ملاحظہ کریں.

uae visa done based

مندرجہ بالا مثالوں سے یہ واضح ہے کہ 35 سال سے کم عمر پاکستانی ڈن بیس پہ وزٹ یا سیاحتی ویزہ حاصل کر سکتے ہیں. دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا ڈن بیسڈ ویزہ نارمل ویزے کا بہتر متبادل ہے؟

جواب : اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہم نے دبئی کی چند ایک ٹریول اینڈ ٹورازم کمپنیوں سے بات کی ہے. جن کا کہنا ہے کہ کچھ ٹریول ایجنٹس IATA یا DNATA سے اس طرح رجسٹرڈ ہوتے ہیں کہ انہوں نے سکیورٹی ڈیپازٹ کی مد میں کروڑوں روپے جمع کرا رکھے ہوتے ہیں. اور ان کمپنیوں کا نیٹ ورک وسیع ہوتا ہے. ان کمپنیوں کے ویزے مسترد نہیں ہوتے. لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ کمپنیاں انتہائی محتاط بھی ہوتی ہیں.

ان کمپنیوں کو سب سے بڑا خطرہ وزٹ ویزے پہ آئے مسافر کے انڈرگراؤنڈ ہونے سے ہوتا ہے. اگر مسافر ویزہ ایکسپائر ہونے پہ واپس نہ گیا تو ان کمپنیوں کا لائسنس بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے. اسی طرح اگر کسی مسافر سے یو اے ای میں کوئی جرم سرزد ہو گیا تب بھی ان کمپنیوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے.

اس کا حل کچھ ٹریول ایجنٹ اس طرح نکالتے ہیں کہ وہ ڈن بیس پہ جانے والے مسافر کے ورثا سے بینک اکاؤنٹ کا بلینک چیک لے لیتے ہیں. تاکہ مسافر کے ادھر ادھر ہونے کی صورت میں قانونی کاروائی کی جا سکے.

یو اے ای ڈن بیس ویزے کے حصول پہ 82 ہزار روپے لگ جاتے ہیں. ایک لاکھ روپے کا ایئر ٹکٹ، 6500 روپے کوویڈ 19 پی سی آر ٹیسٹ رپورٹ، 5000 روپے کوویڈ 19 ریپڈ پی سی آر ٹیسٹ اور دبئی میں ایک ماہ قیام و طعام پہ کم از کم 60 ہزار روپے خرچ آ جاتا ہے.

اس طرح سے آپ کا یو اے ای وزٹ کا ٹوٹل خرچ دو لاکھ پچاس ہزار کے آس پاس ہو جائے گا. اتنی رقم خرچ کرنے کے بعد اگر آپ کو متحدہ عرب امارات میں ملازمت نہیں ملتی تو کیا آپ اس نقصان کو برداشت کرنے کی سکت رکھتے ہیں. اگر ہاں تو قسمت آزمانے ضرور جائیں. یا کچھ دن انتظار کر لیں. جب نارمل وزٹ منظور ہونا شروع ہو جائیں گے تو اس وقت اپلائی کریں. تب ایئرلائن کے ٹکٹ ریٹ بھی نارمل ہو چکے ہونگے.

Guest Post on High Authority Website with Dofollow Backlink

ایڈیٹر ارشد فاروق

ارشد فاروق
ارشد فاروق بٹ کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ یو اے ای اردو ویب سائٹ پر آپ ویزہ گائیڈ اور اردو نیوز کی کیٹیگری اپڈیٹ کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے