dubai

دبئی : اگر آپ کا باس آپ کو نماز سے روکے؟ جانئے اماراتی قانون کیا کہتا ہے!

دبئی (یواےای اردو) اگر آپ ملازمت کے سلسلے میں دبئی، ابوظہبی یا کسی اور امارت میں مقیم ہیں اور وقت کے پابند ہیں، اپنا کام ایمانداری سے کرتے ہیں تو آپ ایک اچھے ملازم ہیں اور آپکا ادارہ بھی خوش نصیب ہے کہ اسے آپ جیسا محنتی اور جانفشانی سے کام کرنے والا ملازم ملا ہے۔
ان سب خوبیوں کے ساتھ ساتھ اگر آپ نماز کے پابند ہیں تو سونے پر سہاگہ، لیکن بعض لوگ اس بات سے پریشان رہتے ہیں کہ ان کا باس ان کی نماز سے ناراض نہ ہو اور اسے کام چور نہ سمجھے۔
کئی باس یہ سمجھتے ہیں کہ اکثر ملازم کام سے جی چراتے ہیں اور نماز کے بہانے آرام کا وقت نکالتے ہیں۔ تاہم محنتی ورکرز کو اس بارے میں بالکل پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ متحدہ عرب امارات کے قانون کے تحت کوئی مالک اپنے ملازم کو نماز سے نہیں روک سکتا۔ اس حوالے سے وزارتی حکمانے میں درج ہے کہ مالک اپنے ملازمین کو کام کے دوران نماز کی ادائیگی کے لیے رعایت دینے کا پابند ہے۔
اگر کوئی باس نماز کی اجازت نہ دے تو اس کے خلاف شکایت درج کرائی جا سکتی ہے۔ تاہم اگر آپ کے جاب کنٹریکٹ میں ایسی کوئی شرط لکھی ہوئی ہے جیسا کہ نماز یا داڑھی بڑھانے پر پابندی تو اس صورت مٰیں متعلقہ ملازم کو کمپنی کی شرائط کو پورا کرنا ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں