متحدہ عرب امارات میں کونسی 8 حرکتیں آپ کو جیل کی ہوا کھلا سکتی ہیں

یہ بظاہر معمولی حرکات قید کے علاوہ بھاری جرمانے کا باعث بھی بن سکتی ہیں

دُبئی(یو اے ای اردو) متحد ہ عرب امارات میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو بہت احتیاط کرنی چاہیے۔ کیونکہ چند ایسی حرکات جو دیگر ممالک میں قابلِ معافی ہیں، اُن کے دبئی میں ارتکاب پر آپ بھاری مصیبت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

کسی بھی مرد یا عورت کی تصویریں یا ویڈیو اُس کی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا آپ کے لیے بڑی پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔

کیونکہ یہ ذاتی زندگی میں مداخلت اور کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ 15 جولائی 2015ء کو آسٹریلوی لڑکی جوڈی میگی کو اس جُرم میں ابو ظہبی کی عدالت کی جانب سے قید اور پھر ڈی پورٹ کیے جانے کے سزا سُنائی۔ میگی نے ایک کار کی تصویر پوسٹ کی تھی جو معذروں کے لیے مخصوص کار پارکنگ میں کھڑی تھی جس پر Disability سٹیکر یعنی معذوروں کے لیے کار پارکنگ کی اجازت والا سٹیکر نہیں لگا ہوا تھا۔

جُون 2018ء میں ایک غیر مُلکی شخص کی جانب سے ابو ظہبی میں مقیم اماراتی خاتون کو بھیجے گئے پیغام کو خاتون نے تضحیک آمیز اور ذلت سے بھرپور خیال کیا۔

خاتون کی جانب سے اس غیر مُلکی کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا۔ عدالت نے ملزم کو خاتون کی شہرت کو نقصان پہنچانے اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال کا مجرم قرار دیتے ہوئے اڑھائی لاکھ درہم کا بھاری جرمانہ عائد کیا۔

سوشل میڈیا پر شراب کی یا فحاشی پر مبنی تصویر پوسٹ نہ کریں۔ شراب اورمنشیات کی تصاویر کو اماراتی سماجی اقدار اور اسلامی شعائر کے خلاف تصور کیا جاتا ہے۔

جنوری 2018ء میں ایک عرب خاتون کو سوشل میڈیا پر نازیبا ویڈیوز پوسٹ کرنے کے جُرم میں ایک سال قید کی سزا سُنائی گئی تھی۔

جج کی جانب سے خاتون ملزمہ پر اڑھائی لاکھ درہم کا جرمانہ کرنے کے علاوہ اُسے سزا کی مُدت پُوری ہونے کے بعد ڈی پورٹ کیے جانے کی سزا بھی دی گئی۔

سوشل میڈیا پر فحش مواد اور برہنہ تصاویر کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں۔ مارچ 2018ء میں راس الخیمہ کریمنل کورٹ نے ایک مرد اور خاتون کو آپس میں برہنہ تصویریں واٹس ایپ پر شیئر کرنے کے الزام میں جیل اور ڈی پورٹ کیے جانے کی سزا سُنائی تھی۔

کسی بھی شخص کو اُس کی پیشگی اجازت کے بغیر کوئی پوسٹ یا تصویر ٹیگ نہ کریں۔ اماراتی سائبر کرائم لاء کی رُو سے یہ ایک سنگین جُرم ہے ۔جس پر بھاری جرمانے کے علاوہ جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر اسلام کی توہین کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ جون 2018ء میں دُبئی جے ڈبلیو میریٹ ہوٹل نے اپنے عالمی شہرت یافتہ شیف اتُول کوچھڑ کو اُس کے اسلام مخالف ٹویٹ کی بناء پر لاکھوں رُوپے کی نوکری سے فارغ کر دیا تھا۔

امارات میں سوشل میڈیا پر افواہ سازی اور جھوٹی خبریں پھیلانا بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔

اماراتی سائبر کرائم قانون کے تحت جو شخص غلط معلومات پھیلائے گااُسے دس لاکھ درہم بطور جرمانہ ادا کرنا ہوں گے۔ جُون 2018ء میں دُبئی پولیس نے 43 ایشیائی باشندوں کو اس بناء پر گرفتار کیا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر عوام کو کیش پرائز کا جھانسہ دے کر اُن سے بڑی رقم بٹور لی تھی۔ یہ لوگ مقامی اور غیر مُلکی افراد کو واٹس ایپ پر پیغام بھیجتے کہ اُن کا معروف ٹیلی کام کمپنی کی جانب سے ہزاروں درہم کا کیش انعام نکلا ہے۔ جس کے بعد وہ ان لوگوں سے اُن کے کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات معلوم کر کے اُس سے میں رقم نکال لیتے۔

متحدہ عرب امارات میں کسی کو ہراساں کرنا یا پریشان کرنا بھی سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔اگر کوئی شخص نفرت انگیز پیغامات، تشدد پر اُبھارنے والی پوسٹ اپ لوڈ کرتا ہے تو اُسے سنگین نتائج کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

مارچ 2017ء میں عدالت نے تین افراد کو چھ چھ ماہ قید اور ڈی پورٹ کیے جانے کی سزا سُنائی کیونکہ انہوں نے ایک کالج کی لڑکی کو دھمکی دی تھی کہ اگر وہ اُن میں سے ایک لڑکے کے ساتھ ڈیٹ کے لیے راضی نہ ہوئی تو وہ اُس کا گھر جلا کر راکھ کر دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں