Pakistani Ambassador to the UAE

متحدہ عرب امارات کے ویزا نظام میں مزید آسانیاں

دبئی (یو اے اردو – ارشد فاروق بٹ)

متحدہ عرب امارات نے ویزوں کے اجراء اور شرائط میں نئی ترمیم کی ہیں جس کے تحت رہائشی ویزا رکھنے والے والدین اب 25 سال تک کے بچوں کی کفالت کر سکتے ہیں، غیر شادی شدہ بیٹیوں کے لیے عمر کی کوئی حد نہیں ہے، اس سے پہلے بچوں کی کفالت کے لیے عمر کی حد 18 سال تھی ۔

اس نئے نظام کا اعلان پیر کو کابینہ کے ایک اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیرِ اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کر رہے تھے۔

یو اے ای حکومت کے میڈیا آفس کے مطابق بڑی اصلاحات میں تمام اقسام کے ویزوں کے لیے داخلے کی ضروریات کو آسان بنانا اور ویزے میں طویل دورانیے کی پیشکش کرنا شامل ہے جو آنے والوں کی ضروریات اور دورے کے مقصد کو پورا کرتی ہیں۔

اس نئے نظام میں گولڈن ریزیڈنس، گرین ریزیڈنس، خاندان کے افراد کے لیے نئے فوائد، انٹری ویزا کے لیے نیا نظام، نوکری ڈھونڈنے کے لیے انٹری ویزا، بزنس انٹری ویزا، سیاحتی ویزا، رشتہ داروں اور دوستوں کو ملنے کے لیے انٹری پرمٹ، کس عارضی ورک مشن کے لیے انٹری پرمٹ، تعلیم اور تربیت کے لیے انٹری پرمٹ وغیرہ شامل ہیں۔

امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی وکالہ انبا الامارات (وام) نے ویزا نظام کے نئے درجوں کی تفصیل کچھ اس طرح بتائی ہے۔

گولڈن ریذیڈنس امارات

یہ طویل مدتی 10 سالہ ریزیڈنس سرمایہ کاروں، کاروباری افراد، غیر معمولی ہنر مندوں، سائنسدانوں اور پیشہ ور افراد، انتہائی قابل طلبہ اور گریجویٹس، انسانی ہمدردی کے علمبرداروں اور صف اول کے ہیروز کو دی جاتی ہے۔

حالیہ ترامیم میں گولڈن ریزیڈنس ہولڈر کو اجازت ہو گی کہ وہ اپنے خاندان کے ممبران بشمول شریک حیات اور بچوں کو ان کی عمر سے قطع نظر، اور سپورٹ سروسز (گھریلو) ملازمین کو ان کی تعداد کو محدود کیے بغیر سپانسر کر سکیں۔ گولڈن ریزیڈنس کو درست رکھنے کے لیے متحدہ عرب امارات سے باہر قیام کی زیادہ سے زیادہ مدت سے متعلق اب کوئی پابندی نہیں ہے۔

خاندان کے ممبران کے لیے دیگر فوائد بھی ہیں جو انھیں گولڈن ریزیڈنس کے اصل ہولڈر کی موت کی صورت میں اجازت نامے کی مدت کے اختتام تک متحدہ عرب امارات میں رہنے کی اجازت دیتے ہیں۔

اسی طرح پروفیشنلز کے لیے گولڈن ریزیڈنس میں بھی بہت توسیع کی گئی ہے اور اس میں سبھی شعبوں بشمول میڈیسن، سائنسز، انجینیئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بزنس اور ایڈمنسٹریشن، تعلیم، قانون، ثقافت اور سوشل سائنسنز کو شامل کیا گیا ہے۔

گرین ریزیڈنس امارات

اس درجے کے اندر ہنر مند ملازمین کے لیے بغیر کسی سپانسر یا آجر کے پانچ سال کی رہائش کا اعلان کیا گیا ہے۔

بس درخواست دہندگان کے پاس ضابطے کے مطابق ملازمت کا ایک درست معاہدہ ہونا چاہیے، اور انسانی وسائل اور امارات کی وزارت کے مطابق پہلی، دوسری یا تیسری پیشہ ورانہ سطح میں درجہ بندی ہونی چاہیے۔ اس کے لیے کم از کم تعلیمی سطح بیچلرز ڈگری یا اس کے مساوی ہونی چاہیے، اور تنخواہ 15 سو درہم سے کم نہ ہو۔

گرین ریزیڈنس رکھنے والوں کو اب یہ بھی اجازت ہے کہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی ریزیڈنس پرمٹ جاری کر سکتے ہیں۔

فری لانسرز کے لیے گرین ریزیڈنس

فری لانسرز اور خود کے لیے کام کرنے والے (سیلف ایمپلوئڈ) افراد کے لیے سپانسر اور آجر کے بغیر پانچ سال کی ریزیڈنسی کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے لیے انھیں صرف ہیومن ریسورس کی وزارت سے پرمٹ لینا ہو گا اور ان کی سالانہ آمدنی تین لاکھ ساٹھ ہزار سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ اسی قسم کے فوائد سرمایہ کار یا پارٹنر کو بھی حاصل ہوں گے۔

سیاحتی ویزے

متحدہ عرب امارات میں سیاحت کے شعبے کی طرف سے سپانسر کردہ باقاعدہ سیاحتی ویزے کے علاوہ، ایک پانچ سالہ ملٹی انٹری ٹورسٹ ویزا بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

اس قسم کے ویزے کے لیے کفیل کی ضرورت نہیں ہے اور یہ اس شخص کو ملک میں مسلسل 90 دنوں تک رہنے کی اجازت دیتا ہے، اور اس میں اتنی ہی مدت کے لیے توسیع کی جا سکتی ہے، بشرط یہ کہ قیام کی پوری مدت ایک سال میں 180 دنوں سے زیادہ نہ ہو۔

تاہم ستمبر سے ملٹی انٹری ٹورسٹ ویزے کے علاوہ بھی عام سیاح متحدہ عرب امارات میں 60 دن تک قیام کر سکیں گے۔ اس طرح کابینہ کے فیصلے میں امارات میں سیاحت کے لیے قیام کی مدت اب دگنی کر دی گئی ہے۔

اس سے ان افراد کو فائدہ ہو گا جو لمبے عرصے تک امارات میں چھٹیاں منانا چاہتے ہیں یا پھر وہ جو سوچتے ہیں کہ یہاں مستقل طور پر رہا جائے اور اس طرح ان کو زیادہ وقت مل جائے گا کہ وہ روزگار کے نئے مواقع ڈھونڈ سکیں۔

ایڈیٹر ارشد فاروق

ارشد فاروق
ارشد فاروق بٹ کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ یو اے ای اردو ویب سائٹ پر آپ ویزہ گائیڈ اور اردو نیوز کی کیٹیگری اپڈیٹ کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔