urdu columns

تارے زمیں پر

تحریر : چوہدری محمد اویس سکندر
گزشتہ دنوں میں جناب اختر سردار چودھری صاحب صدر کسووال پریس کلب رجسٹرڈ و کالمسٹ نے کسووال پریس کلب رجسٹرڈ کے دفتر میں مجھے اور جناب راجا ذلفقار عباسی صاحب سینئر صحافی و ممبر کسووال پریس کلب رجسٹرڈ کو نوجوان لکھاری جناب مرزا ناصر محمود بیگ صاحب کی نئی آنے والی کتاب تارے زمیں پر پیش کی جس پر میں انکا دل سے شکرگزار ہوں۔ اس کے بعد میں پھر کسووال میں جناب اختر صاحب سے ملنے گیا تو اتفاق سے جناب مرزا ناصر محمود بیگ صاحب کی وہاں آمد ہوگئی۔ جناب مرزا صاحب کے ساتھ مل کر بہت خوشی ہوئی۔ مرزا صاحب کے بارے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ مرزا صاحب دھیمے لہجے اور کمال صفات کے حامل انسان ہیں ۔ انکی نئی آنے والی کتاب کانام تارے زمیں پر ہے اور میری نظر میں مرزاناصر محمود بیگ صاحب بھی ایک ستارے ہیں جو زمین پر جلوہ افروز ہیں اور جن کا مقام آسمان پر ہونا چاہئے مگر خدمت خلق کے لئے وہ زمین پر تدریس کا کام کرہے ہیں۔
مرزا ناصر محمود بیگ صاحب معلم ہیں اور گزشتہ بارہ سالوں سے سائنس کے شعبے میں تدریس کا کام کر رہے ہیں۔ مرزا ناصر محمود بیگ صاحب ایسے استاد ہیں جس کو اپنی نسل نو کی تعلیم و تربیت کی واقعی فکر اور تڑپ ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایسی تعلیم جس کے ساتھ تربیت نہ ہو وہ ایسے درخت کی مانند ہے جو پھل سے مرحوم ہو اور بغیر تربیت کے تعلیم اپنا اثر بہت جلد کھو دیتی ہے۔ اسی لئے انکی کلاس کا کوئی لیکچر کسی اچھی بات یا پیغام سے خالی نہیں ہوتا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ڈاکٹر محمد یونس صاحب کے صاحبزادے جناب عثمان یونس نے مجھے ایک بار مرزا ناصر محمود بیگ صاحب کے بارے میں بتایا تھا۔ عثمان یونس بھی مرزا ناصر محمود بیگ صاحب کے پاس پڑھتا رہا ہے ۔ جب عثمان نے مجھے بتایا تب میری ناصر محمود صاحب سے میری ملاقات نہ ہوسکی ۔ مرزا ناصر محمود صاحب سے میری پہلی ملاقات چند دن پہلے ہوئی اور میں نے اندازہ لگا لیا کہ مرزا صاحب پہلی ملاقات میں ہی لوگوں کے دل جیت لیتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ مرزا ناصر محمود صاحب سے ملاقات سے پہلے انکی کتاب تارے زمیں پر سے میرا تعارف پہلے ہوگیا۔
تارے زمیں پر اسلامی ہیروز پر لکھے جانے والی کتاب ہے جس میں اسلام کے لئے اپنی مال وجان کی قربانیاں دینے والے ہیروز کے بارے میں لکھا ہے جو کہ وقت کی ضرورت بھی ہے۔ انکی اس کتاب میں آپ ﷺ کی زندگی بارے میں اور انکی دی جانے والی تعلیمات کے بارے میں بھی ذکر کیا گیا ہے جو مرزا ناصر محمود بیگ صاحب کی آپ ﷺکی ذات سے لگاؤ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کتاب کہ پڑھ کر ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے بزرگوں کی تعلیمات کو بھولنا نہیں چاہئے۔اگر ہم انکی دی ہوئی تعلیمات کو بھول جائیں گے تو سنورنے کی بجائے مزید بگڑ جائے گی۔ اس لئے میرا تو ماننا ہے کہ جو بھی مرزا صاحب کی کتاب کو پڑھے گا اس یہ کتاب پڑھ کر بہت مزہ آئے گا اور اپنے بزرگوں کے بارے میں جو لکھا گیا ہے اسے پڑھ کر فائدہ اٹھا سکے گا۔ مرزا ناصر محمود بیگ صاحب کا صرف ایک مدعا اور مقصد تھا کہ ہمارے بچوں کے معصوم ذہنوں میں لفظ ہیرو کا جو تصور فلموں، ڈراموں، کارٹونز اور گیمز کے ذریعے ڈالا جارہا ہے اس کو تبدیل کیا جائے اور انکو بتایا جائے کہ ہمارا اصلی ہیرو ان جھوٹے اور فرضی کرداروں سے بلکل جدا اور عظیم ہے۔
جناب مرزا ناصر محمود بیگ صاحب کی کتاب تارے زمیں پر ہے کو چھاپنے اور اسے خوب صورت شکل دینے میں جناب اختر سردار چودھری صاحب صدر کسووال پریس کلب رجسٹرڈ و کالمسٹ کا کردار بہت اہم ہے ۔ اختر سردار چودھری صاحب خود بھی ایک کمال کے لکھاری ہیں ۔ ادب کے لئے ان کی کوششوں کو میں سراہتا رہا ہوں اور ہمیشہ سراہتا رہوں گا۔ اختر سردار چودھری صاحب کے بارے میں آپکو بتاتا چلوں کہ جناب کسووال کے لکھاریوں کے ساتھ ہمیشہ کھڑے رہتے ہیں ۔ انھوں نے کسووال کے بہت مشہور اور نامور لکھاریوں کے ساتھ کتاب کے چھاپنے میں معاونت کرتے رہتے ہیں ۔اختر سردار چودھری صاحب کی اپنے کالمز پر مشتمل کتاب کوچھپانے کی خبر کافی عرصے سے سن رہاہوں اور میرے پوچھنے پر ہربار وہ ٹال دیتے ہیں۔ آج میں اپنے کالم میں ان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ جناب چودھری صاحب جاندی کرو چھاپ دیو ہن کتاب یا ان سے پوچھتا ہوں کہ ایسے نہیں تو اپنے کالم میں ہمیں اس بات کا جواب ہی دے دیں کہ کب کتاب چھاپ رہے ہیں ؟
مرزا ناصر محمود بیگ صاحب کی اس پہلی کاوش کو ہمیں دل سے سراہنا چاہیے تاکہ ان جیسے اور بھی نوجوان لکھاریوں کے حوصلے بلند رہیں اور اسی طرح ان میں لکھنے کا تسلسل برقرار رہے۔ مرزا صاحب جیسے لکھاریوں کی ہمیں بہت ضرورت ہے کیوں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہم کتاب کی اہمیت کو کھو رہے ہیں اور مرزاناصر محمود بیگ صاحب نے اپنی کتاب سے دوستی کو کتاب کی شکل دے کر اس بات پختہ ثبوت دے دیا ہے۔ مرزا صاحب کو جس قدر لکھنے کا شوق ہے وہ تو کم از کم لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔آخر میں میری اللہ تعالیٰ کی ذات سے دعا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ مولف کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور اس سلسلے کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں