urdu columns today

نجی بجلی گھر و ں کو ز ا ئد ادا ئیگیا ں

ڈاکٹر ابراہیم مغل
وطنِ عز یز میں بجلی کی حد سے بڑھتی ہو ئی لو ڈ شیڈنگ کی بڑی وجہ سر ما یہ کی کمی بتا ئی جا تی ہے۔ جبکہ تحقیق کیئے جا نے پہ کچھ اور ہی وجو ہا ت سا منے آ رہی ہیں۔ صو ر ت اس اجما ل کی کچھ یو ں ہے کہ نجلی بجلی گھروں کے ساتھ حکومتی معاہدوں اور ادائیگیوں کے عجیب و غریب نظام پر از خود نوٹس لے کر عدالت عظمیٰ نے قومی مفاد کا ایک اہم ترین سوال اٹھادیا ہے۔ اس طرح پہلی مرتبہ عوام پر ان حیران کن معاہدوں کی حقیقت ظاہر ہورہی ہے اور عام لوگ یہ جاننے کے قابل ہوئے ہیں کہ انہیں بجلی نہ ملنے کے باوجود بعض نجلی بجلی گھروں کو پیسے ملتے رہتے ہیں۔ اسی از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ میں سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ آئی پی پیز کے ساتھ حکومت نے معاہدے اس طرح کے کیے ہیں کہ بجلی لیں یا نہ لیں، ان نجی بجلی گھروں کو ان کی استعداد کے مطا بق ادا ا ئیگی کر نا پڑ تی ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے آئی پی پیز (انڈیپنڈنٹ پاور پرورڈیوسرز) کو زائد ادائیگیوں سے متعلق کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے گلے کا پھندا بنے ہوئے ہیں۔ دورانِ سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے سیکرٹری پاور سے کہا کہ رپورٹ کے مطابق ہر آئی پی پی کو 159 ملین سے زائد ادائیگی کی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عوام کے کروڑوں روپے دے دیئے گئے، چاہے وہ کمپنیاں بجلی بنائیں یا نہ بنائیں۔ دنیا بھر میں اس طرح کے معاہدے منسوخ کیے جارہے ہیں۔ملک میں موجود کسی بھی سرکاری شعبے اور اس کے تحت ہونے والے معاہدوں اور ترقیاتی منصوبوں کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو ہر معاہدے اور منصوبے کے پیچھے ایسی ہی کہانیاں افشا ہوں گے کہ قومی مفاد کے لیے بنائے گئے ان منصوبوں میں قومی مفاد کہیں بھی ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ہر معاہدے کے پیچھے کرپشن اور دھوکا دہی کی ایک طویل داستان رقم ہے۔ ہر ترقیاتی منصوبے کی بہتی گنگا میں حکمران اشرافیہ اور سرکاری اہلکاروں نے خوب ہاتھ دھوئے۔ اعلیٰ عہدیداروں نے تو ہر معاہدے کی تشکیل سے پیشتر حصہ بقدر جثہ اپنا کمیشن طے کیا مگر کسی نے بھی ان کا احتساب نہیں کیا۔ اس سے زیادہ افسوسناک امر کیا ہوگا کہ ہر آئی پی پی کو قومی خزانے سے 159 ملین سے زائد رقم کی بلا رکاوٹ ادائیگی کے گئی چاہے وہ بجلی بنائے یا نہ بنائے۔ اس وقت ملک بھر میں بجلی کا جو شارٹ فال نظر آتا ہے اس کے پس منظر میں ایسے ہی معاہدوں میں ہونے والی کرپشن اور دھوکا دہی کا کلیدی کردار ہے۔ سردیوں کے اس موسم میں جہاں بجلی کی لوڈ شیڈنگ معمول بن چکی ہے وہاں گیس کا بحران بھی حسب روایت عوام کی پریشانیوں میں اضافے کا محرک بنا ہوا ہے ۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منگل کے روز ہونے والے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں وزیر اعظم نے ملک بھر میں بجلی اور گیس کی صورتحال معمول پر لانے کی ہدایت کی تھی۔ وزیراعظم نے گیس کے بحران پر سوئی سدرن اور نادرن کے ایم ڈیز کی برطرفی کے احکامات بھی جاری کیے۔ 70 سال گزرگئے، مگر آج تک ملک مختلف النوع بحرانوں کی زد میں چل رہا ہے اور یہ بحران وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شدید سے شدید تر ہوتے جارہے ہیں۔ اب تحریک انصاف کی حکومت کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ ملک کو درپیش ان بحرانوں سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔ ملک کی ترقی کے لیے تشکیل دیئے گئے پانچ سالہ منصوبے بھی اپنا ہدف پورا کرنے میں کامیابی کی لکیر عبور نہیں کرسکے۔ ان اہداف کو حاصل کرنے میں جن ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ان رکاوٹوں اور مسائل کو حل کرنے کے لیے کبھی سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔ ہر آنے والی حکومت کے سامنے جب ملکی مسائل کا انبار آیا تو اس نے اسے حل کرنے کی پالیسی دینے کے بجائے سارا ملبہ جانے والی حکومت پر ڈال کر خود بری الذمہ ہونے کی کوشش کی۔ 70 برسوں سے الزامات در الزامات کا یہی سلسلہ چلا آرہا ہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود زرعی شعبے کی حا لتِ زار ملا حظہ تر ما یئے کہ سبزیوں کی طلب پوری کرنے کے لیے ہمسایہ ممالک سے انہیں منگوایا جاتا ہے۔ 70 سال پیشتر کسان کی جو دگرگوں حالت تھی آج بھی وہ اسی بدحالی کا رونا روتا نظر آتا ہے۔ اس کو آج بھی اس کی فصل کا مناسب معاوضہ نہیں ملتا اور وہ اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے سڑکوں پر احتجاج کا راستہ ڈھونڈتا ہے۔ ٹیکسٹائل شعبہ بھی تنزلی کی جانب رواں ہے۔ حال یہ ہے کہ بنگلہ دیش جیسا غریب ملک آج ٹیکسٹائل انڈسٹری میں پاکستان سے کہیں آگے نکل چکا اور پاکستان کے پالیسی سازوں کی نااہلی کے سبب ملکی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے والا یہ شعبہ آج گونا گوں مسائل کی نذر ہوچکا ہے۔ درآمدات اور برآمدات میں موجودہ خسارہ آج بھی حکومتی بزرجمہروں کی توجہ کا طالب ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران برآمدات پر ڈیوٹیاں بڑھنے سے برآمدات کنندگان کو خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مہنگائی کا گراف روز بروز بلند ہوتا جارہا ہے اور اب پھر منی بجٹ کی صدائیں آرہی ہیں اور عوام پریشان ہیں دیکھئے کہ مہنگائی میں کتنا اضافہ ہوتا ہے۔ حکومت بیرونی قرضہ جات کے دباؤ کو کم کرنے کے وعدے میں بھی کامیابی کا کوئی تمغہ اپنے سینے پر نہیں سجا سکی بلکہ ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوششوں میں مزید غیرملکی قرضوں کے حصول کے لیے بھاگ دوڑ کر رہی ہے۔ ملکی ترقیاتی منصوبوں اور معاہدوں میں ہونے والی کرپشن نے جہاں ملک کے معاشی نظام کو شدید نقصان پہنچایا وہاں ابھی تک موجودہ حکومت کی کوئی ایسی معاشی اور تجارتی پالیسی سامنے نہیں آئی جس سے عوام میں موجود مایوسی کا خاتمہ ہوسکے۔
بتایا گیا کہ آئی پی پیز کے سا تھ یہ معاہدے 2002ء کی پاور پالیسی کے تحت کیے گئے۔ معاہدوں کی یہ نوعیت بلاشبہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک کے لیے جہاں توانائی کا بحران شدید ہے۔ لوگو ں کی مالی استطاعت کم ہے، توانائی کے زیادہ تر وسائل درآمدی ہیں اور مہنگے ہیں۔ ظاہر ہے ان مشکوک شرائط کے حامل معاہدوں کے اثرات بجلی کی قیمتوں پر پڑیں گے۔ بجلی مہنگی ہوگی تو لوگوں کے اخراجات میں اضافہ ہوگا، پیدوار مہنگی ہوگی اور معیشت پر یہ صورتحال منفی اثرات مرتب کرے گی۔ عدالت عظمیٰ میں اس مقدمے کی سماعت کے موقع پر بتایا یا کہ دس نجی بجلی گھروں کو 15 کروڑ نوے لاکھ روپے فی کس اضافی دیئے گئے۔ یعنی مجموعی طور پر قریب ڈیڑھ ارب کی زائد ادائیگی۔ یہ رقم ٹیکس ادا کرنے اور بجلی کا بل بھرنے والوں کی جیبوں سے نکلی، اور یہ وہ رقم ہے جس کے بدلے میں بجلی کا ایک یونٹ بھی نہیں ملا۔ ہمارے بجلی کے سرکلر ڈبٹ کے باوجودمسلسل ادائیگیو کے بڑھتے کیوں چلے جاتے ہیں؟ اس کا ایک سبب اس قسم کے مشکوک معاہدے بھی ہیں جو ملک و قوم کے مفاد کے صریحاً خلاف ہیں۔ جناب چیف جسٹس صاحب اس حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ دنیا بھر میں اس قسم کے معاہدے ختم کیے جارہے ہیں۔ قومی مفادات کے برعکس ایسے معاہدے کرنے والوں سے ضرور باز پرس کی جانی چاہیے۔ یہ عدالت عظمیٰ کا اختیار ہے کہ وہ جس طرح مناسب سمجھے آئی پی پیز کے معاہدوں کی تحقیق کروائے۔ بجلی کے شعبے کے ان حیران کن معاہدوں کی تحقیق ضرور ہونی چاہیے اور یہ سامنے آنا چاہیے کہ ایسے حیران کن معاہدے کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ان کے پیچھے کیا مقاصد تھے؟ بجلی کے شعبے کی استعداد کار بہتر بنانے کے لیے ان مشکوک معاہدوں میں ایسی کئی رکاوٹیں ہیں جنہیں دور کیے جانے کی ضرورت ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ملکی مفاد کے بہترین، قابل عمل اور پائیدار منصوبے دہائیوں تک پیش رفت سے محروم رہ جاتے ہیں اور بعض انہی حالات میں دم توڑ دیتے ہیں۔ یہا ں میری مراد پن بجلی کے منصوبوں سے ہے جن کے سستا اور ماحول دوست ہونے میں کوئی دو رائے نہیں۔ یہ منصوبے تو عشروں تک ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ پائے، البتہ نجی بجلی گھروں سے کچھ لیے بغیر اربوں کی ادائیگی کے غیرمنصفانہ معاہدے کرنے میں حکمرانوں نے دیر نہیں کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں