Hamida Gul

اس قوم کو ہی بم سے اڑا دو

تحریر: حمیدہ گل محمد
آپ لوگ بھی سوچ رہے ہوں گے آخر کالم کا عنوان یہ ہے تو اس کا مواد کس قدر انتہا پسندی پر مبنی ہوگا۔ا یک ایسی قوم کو بم سے اڑا نے کی بات کی جارہی ہے کہ جس کی ریاست کو مدینے کی جانشین ریاست کہا جاتا ہے۔جس ملک کو حاصل کرنے میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانیں،مال و زر اور خاندان تک قربان کر دئیے،جس کے بانی نے آخری دم تک ٹی بی جیسے موذی مرض سے لڑتے ہوئے جان تو فدا کر دی مگر مسلمانوں کے لئے ایک آزاد اور الگ وطن حاصل کر کے ہی دم لیا،جس ریاست کی آزادی کے بعد ہماری بہن ماؤں اور بیٹوں نے اپنی عزت و آبرو بچانے کے لئے کنوؤں میں کود کر،اپنا گلہ کاٹ کر اپنی عزت بچانا تو گورارہ سمجھا مگر عزت پر آنچ نہ آنے دی،جس کے اثاثوں کی تقسیم کے وقت بھی ہیرا پھیری کی گئی اور اثاثوں کی مساوی تقسیم کو پس پشت ڈال دیا گیا،تحریک آزادی کا ہر ایک سپاہی سچائی،ایمانداری،لگن،اتحاد اور محنت سے وطن حاصل کرنے میں پیش پیش تھا،مشرقی پنجاب میں ہونے والے قتل و عام کو بھی اس قوم نے برداشت کیا۔
میں یہ سب کچھ جان کر بھی اگر یہ کہتی ہوں کہ اس قوم کو ہی بم سے اڑا دیا جائے تو اس کے پیچھے وجہ بھی کوئی ایسی ہوگی جس نے دل کو صدمہ اور دماغ کو ٹھیس پہنچائی ہوگی جس کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اس کالم کو لکھنے کی جرات کی۔یہ مئی 2018 کا واقعہ ہے جب سی این جی کی قیمت میں اضافہ ہونے کے باعث ٹرانسپورٹرز حضرات نے جعلی لسٹیں تمام ویگنوں،کوچزاور نجی بسوں میں آویزاں کرکے ایک دم13 اور8روپے کا اضافہ کر دیا تھا۔یہ اچانک کرائے میں ناجائز اضافے کے خلاف ایک مہینے تک میں نے ان کے خلاف آواز اٹھائی۔یونیورسٹی آنے جانے کے وقت میری ان بس کنڈیکٹر سے ناجائز کرائے کے مطالبے پر کافی توں توں میں میں ہوتی۔کمال کی بات یہ تھی کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کرائے میں اضافہ کے خلاف عوام ایک ہوکر ان کو جائز کرایہ ہی دیں گے مگر میں غلط تھی جب جب کرائے کا مطالبہ کنڈیکٹر مجھ سے کرتا میں نہیں دیتی تو کنڈیکٹر تو بعد میں کہتا پہلے یہ عوام ہی میرے پیچھے پڑ جاتی۔
مجھے کہا جاتا کہ کیا 10روپے بچا کر اپنے کفن میں ڈالو گی،تو دوسری کہتی کہ کرایہ پورا نہیں دے سکتی تو رکشوں میں جایا کرو۔ابھی عورتیں اپنا بھاشن پورا نہیں کرتی تو پیچھے سے آدمی حضرات بھی اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالنے کو اہم فریضہ گردانتے اور کہتے ارے ان عورتوں کا یہی کام ہے سفر کرتی ہیں کرایہ نہیں دیتی پانچ یا دس روپے سے یہ اپنا محل کھڑا کریں گی۔وہ تمام مسافر مجھ سے ٹھیک ٹھاک سننے کے بعد بھی ہوش کے ناخن نہیں لیتے جب کہ میں ان کو چیخ چیخ کر بتاتی کہ آپ لوگوں سے ناجائز کرایہ وصول کیا جارہا ہے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاؤ۔مجال ہے کسی کے کان پرجوں بھی رینگتی۔دن گزرتے گئے میں نے اب کبھی W11اور کبھی 4K میں جانا شروع کردیا 4K کی ایک اچھی بات یہ تھی کہ انہوں نے 25سال بعد کرایہ بڑھایا تھا اور وہ بھی صرف 5روپے جبکہ ہم اسٹوڈیٹس اس گورنمنٹ بس میں کارڈ بھی استعمال میں لاکر آدھا کرایہ دیتے ہیں مگر نقصان یہ تھا کہ صبح اس سواری میں بیٹھ جاتے تو ایک دو کلاسیں نکل ہی جاتی اسی بناء پر w11کا رخ کرنا پڑتا۔ابھی کرائے کو بڑھائے مشکل سے 6مہینے ہوئے تھے کہ تبدیلی کے نعرے والی حکومت نے سی این جی کی قیمت میں ریکارڈ توڑ اضافہ فرما دیا لو بھیا اب سی این جی104 پر آگئی۔ ماشاء اللہ سی این جی کی تو سنچری بن گئی مگر عوام کا دیوالیہ نکل گیا اس مہنگائی کا براہ راست اثرات ایک بار پھر عوام پر آیا اس بار ہم بہت خوش تھے کہ اب تو اس عوام نے ذیادہ کرایہ وصول کرنے پر کنڈیکٹر کا منہ توڑ دینا ہے اور پرانے لسٹ کی پہچان بھی ہوگئی ہوگی کی ایک بار پھر اس پرانی لسٹ میں ردوبدل کرکے اس لسٹ کوبسوں کی زینت بننے کا شرف بخشاجو مئی 2018 میں لگائی گئی تھی۔ اس بار عوام ان کرایوں میں اضافے کے خلاف بائیکاٹ کرے گی کیوں کہ کرایہ اب 30روپے سے بڑھا کر 40روپے جو کردیا گیا تھا۔صبح حسب معمول یونی جانے کے لئے W11کا رخ کیا کنڈیکٹر کو 30 روپے پکڑا دئے اس نے کہا 10 اور دو میں نے کہا نہیں ہے اس نے بحث شروع کردی جب بحث چلی جیت میری ہوئی۔مگر یہ عوام پھرمیری دشمن بن گئی بلکل پاک بھارت جنگ کی طرح مجھ پر برسنے لگے ڈرائیور صاحب نے کہا رکو! ابھی بس تھانے پر لگاتا ہو لو جی تھانے کا نام سن کر مجھے بے حد خوشی ہوئی میں نے کہا ہاں ہاں لگاؤ تھانے پر گاڑی تمھیں بھی تو پتہ لگے کہ میں صحیح ہو یا تم یا پھرتمھاری حمایتی عوام۔اتنے میں ایک محنتی آدمی نے پیچھے سے بلند آواز کہا یار تو گاڑی چلا اس لڑکی کو تو کہی جانا نہیں ہم کام کاج والے لوگ ہیں۔اس پر مجھے ایک سیانے کی بات یاد آگئی یہ منہ اور مسور کی دال۔لسٹ کے مطابق 13اکتوبر کو زائد کرایہ وصول کرنے کا اطلاق ہونا تھا مگران لوگوں نے تو 10اکتوبر سے ہی ناجائز کرایہ وصولی شروع کر دی اور یہ عوام خوشی خوشی دیتی رہی اور اب بھی دے رہی ہے۔
میں نے سمجھا گاڑی میں پڑھا لکھا طبقہ کم ہوتا ہے اس لئے آگاہی نہیں ہوگی مگر آگاہی دینے پر الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے والا حساب ہے خیر یونیورسٹی میں بھی پانی کی مشینوں کے لئے احتجاج کیا گیا مجال ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں اس اجتماعی مسئلے کے خلاف ایک ہوتے کوئی یہاں سے بھاگا کوئی وہاں سے۔50سے40 لڑکوں کے ساتھ صرف دو لڑکیا ں اس نا انصافی کے خلاف پیش پیش تھی میں اور میری دوست اقصہ۔ دوسرے دن پانی کی کافی مشینیں مختلف شعبوں میں لگا دی گئی اور یہی لوگ جو ہمارے ساتھ احتجاج میں کھڑے ہونے کو باعث شرم سمجھ رہے تھے ان واٹر کولرز پر پانی بھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ابھی ایک ہفتے پہلے بھی یونی میں ایک مسئلہ ہوا 6لڑکیوں کے علاوہ کسی نے ساتھ نہیں دیا جب کہ پوری کلاس کا مسئلہ تھا۔
اسی طرح کے دیگر مسائل جن پر عوام کو،اسٹوڈیٹس کوآواز اٹھانا چاہے مگر خود توآواز اٹھاتے نہیں اگر کوئی بولتا بھی ہے تو یہ عوام مل کر اس کی آواز دبا دیتے ہیں۔ہمیں اپنے بنیادی حقوق کے لئے آواز بلند کرنا چاہئے اتحاد و اتفاق سے کام لینا چاہئے مگر نہیں لیتے۔ ابھی پانی کا مسئلہ کس قدر سنگین بن چکا ہے،کہا جا رہاہے کہ تیسری جنگ پانی پر ہوگی،مہنگائی کا جن بھی پورے ملک میں دندنا تہ پھر رہا ہے،ظلم و ذیادتی عروج پر ہے، سرے عام لوگوں کو قتل کر دیا جاتاہے،بچے اغوا کر لئے جاتے ہیں۔یہ قوم کچھ نہیں کہتی الٹا ہر ظلم کو برداشت کرتی ہے۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے۔۔۔۔
“جیسی قوم ویسے ہی حکمران مسلط کئے جائیں گے ”
مجھے یہ سب دیکھ کر،عوام کے بے حس رویہ کو دیکھ کر شدید غصہ آتا ہے ہم لاشیں تو اٹھا نا گوارا کرتے ہیں مگر اپنے حق کے لئے آواز نہیں اٹھاتے،Spiral of silence theoryکا پاکستان کی عوام میں بہت ذیادہ عمل دخل ہے۔ظلم کو برداشت کرنا بھی ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ خدارا اگر چاہتے ہو کہ تمھاری آنے والی نسلیں کم از کم بنیادی حقوق سے محروم نہ ہواور خودکشی پر مجبور نہ ہو،آنے والی نسل اپنے حقوق حاصل کر پائیں،مستقبل کے لئے فکر مند نہ ہو،تعلیم سے محروم نہ ہو،پانی جیسی نعمت ان کو میسر آئے تو اٹھو اپنی آنے والی نسل کے لئے خاموش مزاجی کے بندھن کو توڑواور لکڑہارے کی ان لکڑیوں کے گھٹر کی طرح بن جاؤ کہ تمھیں توڑنا تو دور کوئی تمھارے قریب آنے کی جرات بھی نہیں کر سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں