urdu afsanay

رات کا سورج

مصنف : جبران علی
چار آدمی رات کے وقت مسجد کی رکھوالی پر متعین تھے۔ مسجد کی بیرونی دیوارزیر تعمیر تھی۔ کوئی بدبخت مسجد کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا ہوا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے غلہ چوری ہوا تھا۔ گزشتہ دنوں ٹونٹیاں چوری ہوئیں اور پچھلی رات کسی نے پنکھا چوری اتار لیا۔مولوی صاحب نے بہت اعلان کیے اور جمعے کے خطبے میں دوزخ کی آگ سے ڈرایا لیکن مولوی صاحب کی اشتعال انگیز تقریر کے باوجود چور کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔مسجد کی کمیٹی نے چور کو پکڑنے کے لیے چار آدمیوں کو بٹھا دیا تھا جو چھپ کر پہرہ دے رہے تھے۔ان چار آدمیوں میں ایک چھپرے کے اوپر پرالی میں چھپا بیٹھا تھا ۔ ایک گرے ہوئے مکان کی اینٹوں کی اوٹ میں چھپا بیٹھا تھا اور دوسرے دو بازار میں پڑے چھیٹیوں کے ڈھیر میں چھپے بیٹھے تھے۔
یہ سردیوں کے آخری دن تھے۔ہر طرف مکمل سکوت ہے۔ سرد موسم میں یہ سکوت اور بھی بڑھ جاتا ہے۔سردی ہرذی روح کو تھپک تھپک کر سلا دیتی ہے۔ایسے میں صرف دو چیزیں ہی جاگتی ہیں ایک تو کتے اور دوسرے چور۔رات کے قریباً ایک بجے کا وقت ہوگیا لیکن چور ابھی تک نہیں آیا تھا۔پہرہ دینے والے بیٹھے بیٹھے جب اکتا گئے تو انہوں نے اپنے گھروں میں جانے کا فیصلہ کیا ۔اب اس کا مزید انتظار کرنا بے کارتھا۔لیکن ابھی اٹھنے کی تیاری ہی کر رہے تھے انھیں بازار کے اندھیرے میں کچھ ہلچل محسوس ہوئی۔اندھیرا گہرا ہونے کی وجہ سے انھیں کچھ صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔وہ اس کا اور قریب آنے کا انتظار کرنے لگے۔قریب آنے پر پتہ چلا وہ کوئی آوارہ کتوں کا ٹولہ تھا جو آپس میں مستیاں کرتا اور بازار میں پڑی ہوئی کپڑے کی’’لیروں‘‘ کو اپنے منہ مین گھسیٹتاہوا گزر گیا۔
لطیف عرف طیفا آدھی رات کو اپنے گھر سے نکلا۔یہ اس کا روز کا معمول تھا۔وہ رات کے گیارہ، بارہ بجے جب دنیا نیند کے مزے لے رہی ہوتی نکلتا۔وہ چھپتے چھپاتے اپنا کام پورا کرتا اورگھرواپس آ جاتا، کسی کو کانو ں کان خبر نہ ہوتی۔
وہ ایک مثبت انسان رکھنے والا بے ضرر انسان تھا۔ اتنا بے ضرر کہ اگر اس کے پاؤں کے نیچے چیونٹی آ کربھی مر جاتی تو وہ اس کے لیے گھنٹوں افسردہ رہتا۔انسان تو انسان کسی جانور کی تکلیف بھی اس سے برداشت نہ ہوتی۔اسے کبھی جنت کی خواہش نہیں تھی، اس لیے اس نے نہ کبھی نماز پڑھی اور نہ کبھی روزہ رکھا۔اس کے خیال میں اس دنیا کو دوسروں کی تکلیفیں دور کر کے جنت بنانا چاہے۔وہ آج بھی اسی غرض سے جار ہا تھا۔وہ دن کو کسی تکلیف زدہ جانور کو دیکھتا اور رات کے اندھیرے میں اسے دور کرنے کی کوشش کرتا۔دن کے اجالے میں اسے پتہ تھا لوگ اس کی تضحیک کریں گے اس کا مذاق اڑائیں گے۔وہ روشنی پھیلانے والا والا ایسا سورج تھا جو صرف رات کو ہی نکلتا۔اس سورج کی روشنی ایسی تھی جو اندھیروں کو تو دور نہ کرتی البتہ دوسروں کی تکلیفیں ضرور کر دیتی۔ وہ اسی طرح اندھیروں سے روشنی کشید کرتا ۔ وہ جانتا تھا اندھیروں میں روشنی چھپی ہوئی ہے۔
چند دن پہلے گاؤں میں خارش کی وبا پھیل گئی، جس سے دیکھتے ہی دیکھتے سارے گاؤں کے سارے کتے خارش زدہ ہو گئے۔ جن کی جلد خارش کی وجہ سے سرخ ہوگئی ۔کتے بار بار سکون حاصل کرنے کے لیے اپنی جلد کو نوکیلے بنچوں سے کھجاتے یا کسی دیوار ، درخت سے اپنے جسم کو رگڑتے جس سے ان کے رہتے بال جھڑ گئے۔ بعض کتوں کے جسم پر زیادہ کھرچنے کی وجہ سے کھرینڈ آ کر کئی دفعہ اتر چکا تھا۔کتے ہر وقت سکون کی تلاش میں رہتے۔ کبھی وہ کسی کھڑی ٹرالی یا ریڑھے کے نیچے گھستے لیکن اس کے باوجود انھیں سکون میسر نہ آتا۔وہ کئی دنوں تک کتوں کو شیمپوسے نہلاتا رہا جس کے نتیجے میں کچھ ہی دنوں میں کتوں کی خارش ختم ہو گئی۔
آج وہ ایک ایسے گدھے کے لیے نکل رہا تھا جس کی کمر پر کسی ظالم کسان نے اپنے کھیت میں گھس جانے کی وجہ سے پے درپے کلہاڑی سے وار کیے تھے۔سارا دن گدھے کے زخموں پر مکھیاں بھنبھناتی رہتیں اور زخموں سے لیس دار مواد رستا رہتا۔لوگ گدھے پر ترس تو کھاتے مگر پاس جانے پر انھیں گھن آتی لیکن ایسے ترس کا کیا فائدہ جس سے کسی کو کوئی فائدہ ہی نہ پہنچے۔ یہ رات کو نکلنے والا سور ج مسلسل کئے دنوں سے اس کے زخم صاف کر کے دوائی لگا رہا تھا جس کے نتیجے میں زخم کافی حد تک بھر چکے تھے۔وہ آج بھی گدھے کے زخموں پر دوائی لگانے جا رہا تھالیکن اس بات سے بے خبر تھا کہ بازار میں گھات لگی ہوئی ہے۔
طیفا جب بازار میں پہنچا ،پہرے پر بیٹھے ہوئے آدمیوں نے اسے پکڑلیا اور مارنا شروع کر دیا۔ان میں سے ایک نے واویلا کرنا شروع کر دیا ’’ چور پکڑا گیا، چور پکڑا گیا‘‘۔ جس پر بازار میں کافی لوگ جمع ہوگئے۔ لوگ پہلے ہی چوکنا تھے جو ذرا سی سرسراہٹ پر کان کھڑے کر لیتے ، آج باہر واویلا ہوتا دیکھا تو فوراً اپنے گھروں سے نکل آئے۔کوئی بھی طیفے کی بات نہیں مان رہا تھا۔ان کے نزدیک اگرکچھ دغا نہیں تو پھر طیفے کو پردہ تاریک کی ضرورت کیوں تھی۔اسے بازار میں ایک درخت کے ساتھ باندھ دیا گیا۔اتنے میں لوگوں کا مجمع لگ گیا۔سارا مجمع غیظ و غضب کے عالم میں وحشی سانڈھ کی طرح بپھرا ہوا تھاجو طیفے کو جلد سے جلد سزا دنے کے در پہ تھا۔ ایک نے باآواز بلند ہو کر کہا !اس کو ابھی پولیس کے حوالے کر دو ، جس کے جواب میں بہت سے لوگوں نے کہا ! نہیں۔۔۔ نہیں پولیس کیا کرئے گی ،چند دن بعد روپے لے کر چھوڑ دے گی۔اس کو سزا ابھی اور یہیں دو۔اتنی دیر میں ایک دوسرا آدمی بولا : ایسے کرواس کافر کو مار مار کر اس کے ہاتھ پاؤں توڑ دو، اس کی یہی سزا ہونی چاہیے۔اس بات پر بھی زیادہ لوگ متفق نہیں ہوئے۔ ایک نوجوان نے کہا :آگ لگا دیتے ہیں ۔ہاں ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ آگ آگ ۔ آگ کا سن کر سب اس کی تائید کرنے لگے ۔ سارا مجمع ہاں میں ہاں ملانے لگا اور طیفے کو آگ لگانے پر متفق ہوگیا۔ابھی یہ بات جاری ہی تھی کہ ایک جوشیلا آدمی تماشا دیکھنے کے غرض سے بھاگ کر مٹی کا تیل اور ماچس کی ڈبیا اٹھا لایا کہ کہیں مجمع اپنا فیصلہ نہ بدل لے۔طیفے کی آہ و زاری کے باوجود دیکھتے ہی دیکھتے تیل چھڑکا اور آگ لگا دی جس کی تیز روشنی سے اندھیرے میں شگاف پڑ گیا۔روشنی میں بازار کے لوگوں نے دیکھا ، کتوں کا ٹولہ کچھ فاصلے پر رو رہا تھا۔طیفا مرتے ہوئے بھی اپنے حصے کی روشنی کر گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں