kashmir issue

گہری شبوں کا تارا ، میرے حسیں وطن میں

شاعر: بدر سیماب
گہری شبوں کا تارا ، میرے حسیں وطن میں
ہر شخص ہے ستارا ، میرے حسیں وطن میں

کوہ و دمن کو دیکھو دیکھو تو دشت و دریا
رنگین ہر نظارا ، میرے حسیں وطن میں

اب کے دکھوں کا موسم گرچہ ہے جان لیوا
ہر درد ہے گوارا ، میرے حسیں وطن میں

راتیں سبھی کٹیں گی صبحیں نئی چلیں گی
ہے وقت کا اشارا ، میرے حسیں وطن میں

پوچھا گیا کہ جنت دنیا میں ہے کہاں پر ؟
ہر نفس یہ پکارا ، میرے حسیں وطن میں

دشمن سے جا کے کہہ دو حد میں رہے ذرا وہ
ہے طفل بھی شرارا ، میرے حسیں وطن میں

اپنا تبصرہ بھیجیں