تیری محفل میں مجھے یوں نہ پکارا جائے

تیری محفل میں مجھے یوں نہ پکارا جائے
کسی تہمت کا تری سمت اشارہ جائے
میرے قاتل کو بری کر دے مگر دھیان رہے
تیرے ہاتھوں سے کہیں عدل نہ مارا جائے
جز محبت کے کوئی اور بھی ہے کھیل یہاں
جیتنے کے لیے جس کھیل کو ہارا جائے
کچھ نہیں جس میں فقط بغض و کدورت کے سوا
ایسی دنیا سے کیا ، کیوں نہ کنارا جائے
مصلحت کوش سے بس اتنی گزارش ہے مری
جھوٹ اور سچ کو بہرحال نتارا جائے
ہے تو منظور سر دار بھی آنا لیکن
پابہ زنجیر نہ گلیوں سے گزارا جائے
جب مقدر ہی نہ دے ساتھ تو پھر سوچ عزیز
دور کشتی سے بھلا کیوں نہ کنارا جائے
شاعر: رحمت علی عزیز

زوہیب بٹ

https://www.uaeurdu.com

زوہیب بٹ یواےای اردو ویب سائٹ کے ایڈمن ہیں اور گزشتہ بیس سال سے کاروبار کے سلسلے میں دبئی میں مقیم ہیں

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے