urdu columns

اسوہ رسول ﷺ

تحریر حافظ ابن یوسف
رسولِ کائنات، فخرِ موجودات محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو خالق ارض و سما رب العلیٰ نے نسلِ انسانی کے لیے نمونہ کاملہ اور اسوہ حسنہ بنایاہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کو فطری طریقہ قرار دیا ہے۔ محسن انسانیت کے معمولات زندگی ہی قیامت تک کے لیے شعار ومعیار ہیں، یہی وجہ ہے کہ سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر گوشہ تابناک اور ہر پہلو روشن ہے یومِ ولادت سے لے کر روزِ رحلت تک کے ہر ہر لمحہ کو قدرت نے لوگوں سے محفوظ کرادیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متوالوں نے محفوظ رکھاہے اور سند کے ساتھ تحقیقی طور پر ہم تک پہنچایا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے کے حالات و واقعات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی کوئی ایسی برائی نہ تھی جو اس وقت قوم عرب میں نہ پائی جاتی ہو۔۔۔ایک دوسرے کے خون کے پیاسے۔۔۔چھوٹی چھوٹی باتوں پے سالہا سال لڑائیاں چلتی رہتی تھیں۔۔شراب نوشی۔۔۔بچیوں کو زندہ درگور کرنا۔۔۔۔عورت کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرنا الغرض ہر برائی ان میں پائی جاتی تھی۔۔
جب اللہ کریم نے انہیں ظلمت و جہالت سے نکالنے کا فیصلہ کیا تو انہیں میں سے محمد بن عبداللہ کو اقوام عرب کی اصلاح کے لیے بطور نبی انتخاب کیا۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے کی زندگی بھی ان لوگوں کے سامنے تھے لوگ آپ کی یر بات پے یقین کرتے تھے۔۔۔جب نبوت کا دعویٰ کیا تو سب پہلے مخالف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ابو لہب ہوا۔
اور دوسری طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جن لوگوں نے آغازِ اسلام میں بھر پور تعاون کیا، اپنا سب کچھ اسلام پر نچھاور کیا اور اسلام کے محسن بن کر تاریخ میں زندہ جاوید ہوگئے، ان میں خاتون اسلام سیدۃ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا اسم گرامی بہت نمایاں ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جوانی کے آغاز میں ان کے مالِ تجارت کو شراکت داری میں جس محنت اور دیانت و امانت سے ثمر بار کیا تھا، اسی نے سیدہ کا دل موہ لیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عقد نکاح میں عہد وفا باندھنے کے وقت وہ انتہائی خوش تھیں کہ عرب کا سب سے زیادہ دیانت دار شخص انھیں اپنی زوجیت میں لے رہا تھا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پہلی وحی کے بعد جب اپنے گھر میں آئے اور ساری کیفیت بیان کی تو سیدہ نے آپ کے جو محاسن بیان کئے ان میں آپ کی دیانت و امانت کا خصوصی تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہاتھا کہ ایسی اعلیٰ صفات کے حامل بندے کو اللہ ضائع نہیں کرے گا۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرت کی مختلف صفات ہیں ان میں سے چند اپنے قارئین تک پہنچانا ضروری سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔
1۔۔۔ صفت اخلاق حسنہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اخلاق حسنہ کی دولت سے تڑپتی انسانیت کی غمخواری کی، اپنے ازلی وابدی دشمنوں کو پتھر کے جواب میں پھولوں کا گلدستہ پیش کیا، نفرت کے اندھیروں میں الفت و محبت کی شمع روشن کی، آپسی تفرقہ بازی اور دائمی بغض و عداوت کی بیخ کنی کرکے بھائی چارگی اور الفت ومحبت کے چشمے بہائے، یہی نہیں بلکہ ذرا دو قدم آگے بڑھ کر فتح مکہ کی تاریخ کے اوراق کو الٹ کر دیکھئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوتے ہیں، صحابہ کرام کی دس ہزار جمعیت آپ کے ساتھ ہے، صحابہ اعلان کرتے ہیں ’’الیوم یوم الملحمۃ‘‘ آج بدلے کا دن ہے، آج جوش انتقام کو سرد کرنے کا دن ہے، آج شمشیروسناں کا دن ہے، آج گذشتہ مظالم کے زخموں پر مرہم رکھنے کا دن ہے، آج ہم اپنے دشمنوں کے گوشت کے قیمے بنائیں گے، آج ہم ان کی کھوپڑیوں کو اپنی تلواروں پر اچھالیں گے، آج ہم شعلہ جوالہ بن کر خرمن کفار کو جلاکر بھسم کردیں گے اور گذشتہ مظالم کی بھڑکتی چنگاری کو ان کے لہو سے بجھائیں گے۔
لیکن تاریخ شاہد ہے اور زمین و آسمان گواہی دیتے ہیں کہ ایساکچھ نہیں ہوا، رحمت نبوی جوش میں آ ئی اور زبان رسالت کی صدائیں لوگوں کے کانوں سے ٹکراتی ہیں ’’لاتثریب علیکم الیوم واذہبوا انتم الطلقاء‘‘ کہ جاؤ تم سب آزاد ہو، تم لوگوں سے کسی قسم کا بدلہ نہیں لیا جائیگا، یہ تھاآپ کا اخلاق کریمانہ، یہ تھا آ پ کے اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ، جس کی مثال سے دنیا قاصر ہے۔
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم انسانیت کو اخلاقیت کا وہ اعلیٰ نمونہ پیش کیا جس کی گواہی باری تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں ’’انک لعلی خلق عظیم‘‘ ایک جگہ خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اخلاقیت کی گواہی دیتے ہوئے فرماتے ہیں ’’انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق‘‘ مجھے تو اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ میں نیک خصلتوں اور مکارم اخلاق کی تکمیل کروں، اسی کو سراہتے ہوئے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بھی آپ کے اخلاق حسنہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں: ’’کان خلقہ القرآن‘‘۔
لہٰذا جو مکارم اخلاق آپ کو خالق کونین کی طرف سے دیے گے تھے اور جن کی تکمیل کے لیے آپ کو اس دنیا میں بھیجا گیا تھا وہ مکلف مخلوق کی فطرت کے جملہ مقتضیات کے عین مطابق تھے اور جن کا مقصد صرف یہی نہ تھا بلکہ ان کے ذریعہ روحانی مریضوں کو ان کے بستروں سے اٹھایا جائے اوراٹھنے والوں کو چلایاجائے اور چلنے والوں کو تیزی سے دوڑایا جائے اور دوڑنے والوں کو روحانی کمال اور اخلاقی معراج کی غایۃ قصویٰ تک اور سعادت دنیوی ہی نہیں؛ بلکہ سعادت دارین کی سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایاجائے۔
بیشک نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اخلاق حسنہ سے بھری پڑی ہے، جسے آج ہمیں اس نازک ترین حالات میں اپنانے کی ضرورت ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اخلاق کی تعلیم دوسروں کو دیں اور خود بھی اس پر عمل پیرا ہوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل پر اپنی زندگی کو سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کو اپنانے کے بعد ہمارے لیے بھی اخلاقیت کی بلند اور دشوار گزار گھاٹی پر چڑھنا آسان ہوجائے گا۔
2۔۔ صفت حیا
آپ ﷺ سب سے زیادہ حیا دار تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بات ناگوار گزرتی تو چہرے سے پتا لگ جاتا۔ اپنی نظریں کسی کے چہرے پر گاڑتے نہ تھے۔ نگاہ پست رکھتے تھے اور آسمان کی بہ نسبت زمین کی طرف نظر زیادہ دیر تک رہتی تھی۔
حیا اور کرم نفس کا عالم یہ تھا کہ کسی سے ناگوار بات رو برو نہ کہتے اور کسی کی کوئی ناگوار بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی تو نام لیکر اس کا ذکر نہ کرتے بلکہ یوں فرماتے کہ کیا بات ہے کہ کچھ لوگ ایسا کر رہے ہیں۔

3۔ صفت عدالت و صداقت
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ عادل، صادق اللہجہ اور عظیم الامانت تھے۔ اس کا اعتراف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست دشمن سب کو ہے۔ نبوت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امین کہا جاتا تھا اور دور جاہلیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فیصلے کے لیے مقدمات لائے جاتے تھے۔
ہرقل نے ابو سفیان سے دریافت کیا کہ کیا اس (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) نے جو بات کہی ہے اس کے کہنے سے پہلے تم لوگ ان پر جھوٹ کا الزام لگاتے تھے؟ تو ابو سفیان نے جواب دیا کہ نہیں۔
4 صفٹ تواضع
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ متواضع اور تکبر سے دور تھے۔ جس طرح بادشاہوں کے لیے ان کے خدّام و حاشیہ بردار کھڑے رہتے ہیں اس طرح اپنے لیے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو کھڑا ہونے سے منع فرماتے تھے۔ مسکینوں کی عیادت کرتے تھے، فقراء کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے، غلام کی دعوت منظور فرماتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں کسی امتیاز کے بغیر ایک عام آدمی کی طرح بیٹھتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتے خود ٹانکتے تھے، اپنے کپڑے خود سیتے تھے اور اپنے ہاتھ سے اس طرح کام کرتے تھے جیسے تم میں سے کوئی آدمی اپنے کام کاج کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی انسانوں میں سے ایک انسان تھے اپنے کپڑے خود ہی دیکھتے کہ کہیں اس میں جوں نہ ہو اپنی بکری خود دوہتے تھے اور اپنا کام خود کرتے تھے۔
5۔۔۔ صفت عہد و پیماں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑھ کر عہد کی پابندی اور صلہ رحمی فرماتے تھے، لوگوں کے ساتھ سب سے زیادہ شفقت اور رحم و مروّت سے پیش آتے تھے، رہائش اور ادب میں سب سے اچھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق سب سے زیادہ کشادہ تھا۔ بدخلقی سے سب سے زیادہ دورو نفور تھے۔ نہ عادتاً فحش گو تھے نہ بہ.تکلف فحش کہتے تھے، نہ لعنت کرتے تھے۔ نہ بازار میں چیختے چلاتے تھے نہ برائی کا بدلہ۔ برائی سے دیتے تھے، بلکہ معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے۔ کسی کو اپنے پیچھے چلتا ہوا نہ چھوڑتے تھے۔ کبھی اپنے خادم کو اف نہیں کہا۔ نہ اس پر کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر عتاب فرمایا۔ مسکینوں سے محبت کرتے، ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور ان کے جنازوں میں حاضر ہوتے تھے۔ کسی کو فقر کی وجہ سے حقیر نہیں سمجھتے تھے۔
ایک صحابی کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا انوکھا انداز
نبیصلی اللہ علیہ وسلم کا جب اس ظاہری دنیا سے پردہ فرمانے کا وقت آیا اس وقت آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید بخار تھاآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرتِ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ مدینہ میں اعلان کردو کہ جس کسی کا حق مجھ پر ہو وہ مسجدِ نبوی میں آکر اپنا حق لے لے_
جب مدینے کے لوگوں نے یہ اعلان سْنا تو آنکھوں میں آنسو آگئے اور مدینہ میں گہرام مچ گیا سارے لوگ مسجدِ نبوی میں جمع ہوگئے صحاب کرام رضوان اللہ عنہم کی آنکھوں میں آنسوں تھے دل بے چین وبے قرار تھا_پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر تیز بخار تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہوا جارہا تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے میرے ساتھیو! تمھارا اگر کوئی حق مجھ پر باقی ہو تو وہ مجھ سے آج ہی لے لو میں نہیں چاہتا کہ میں اپنے رب سے قیامت میں اس حال میں ملو کہ کسی شخص کا حق مجھ پر باقی ہو یہ سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ رنہم اجمعین کا دل تڑپ اْٹھا مسجدِ نبوی میں آنسوؤں کا ایک سیلاب بِہہ پڑا صحابہ رو رہے تھے لیکن زبان خاموش تھی کہ اب ہمارے آقا ہمارا ساتھ چھوڑ کر جارہے ہیں۔
اپنے اصحاب کی یہ حالت دیکھ کر فرمایا کہ “اے لوگوں ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے”
میں جس مقصد کے تحت اس دنیا میں آیا تھا وہ پورا ہوگیا ہم لوگ کل قیامت میں ملیں گے
ایک صحابی کھڑے ہوئے روایتوں میں ان کا نام عْکاشہ آتا ہے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا حق آپ پر باقی ہے آپ جب جنگِ اْحد کے لئے تشریف لے جارہے تھے تو آپ کا کوڑا میری پیٹھ پر لگ گیا تھا میں اسکا بدلہ چاہتا ہوں۔یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہا کیا تم نبی کریم ﷺ سے بدلہ لوگے؟ کیا تم دیکھتے نہیں کہ آپ ﷺ بیمار ہیں_
اگر بدلہ لینا ہی چاہتے ہو تو مجھے کْوڑا مار لو لیکن نبی کریم ﷺ سے بدلہ نہ لو
یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “اے عمر اسے بدلہ لینے دو اسکا حق ہے اگر میں نے اسکا حق ادا نہ کیا تو اللہ کی بارگاہ میں کیا منہ دکھاؤنگا اسلئے مجھے اسکا حق ادا کرنے دو۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کْوڑا منگوایا اور حضرت عْکاشہ کو دیا اور کہا کہ تم مجھے کْوڑا مار کر اپنا بدلہ لے لو۔
حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ منظر دیکھ کر بے تحاشہ رْو رہے تھے حضرت عْکاشہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ میری ننگی پیٹھ پر آپکا کْوڑا لگا تھا یہ سن کر نبی کریم ﷺنے اپنا کْرتہ مبارک اْتار دیا اور کہا لو تم میری پیٹھ پر کْوڑا مار لو حضرتِ عْکاشہ نے جب حضور ﷺ کی پیٹھ مبارک کو دیکھا تو کوڑا چھوڑ جلدی سے آپ ﷺکی پیٹھ مبارک کو چْوم لیا اور کہا یارسول اللہ
“فَداکَ ابِی واْمی”
میری کیا مجال کہ میں آپ کو کْوڑا ماروں میں تو یہ چاہتا تھا کہ آپکی مبارک پیٹھ پر لگی مہر نبوّت کو چوم کر جنّت کا حقدار بن جاؤں_
یہ سن کر آپ ﷺمسکرائے اور فرمایا تم نے جنّت واجب کرلی_
حوالہ
کتاب کا نام
(الرحیق المختوم صفحہ نمبر 628)
آج کا المیہ یہ ہے کہ موجودہ اس دور زوال میں ہمارے ہاں مختلف مکاتب فکر اور پلیٹ فارمز پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلوں پر بحث و مباحثہ اور گفت و شنید تو کی جاتی ہے، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ سیرت النبی ﷺاور اس کے تقاضوں کا صحیح شعور حاصل کیا جائے اور اس پر عمل کی حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے ملک میں قائم فرسودہ، ظالمانہ اور سیرت نبوی سے متضاد نظام کو ختم کر کے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں انسانی بنیادوں پر عدل و انصاف کا نظام قائم کرنے کی جدوجہد اور کوشش کی جائے، تاکہ ہم اپنی دنیا و آخرت کو جنت بنا سکیں اور انسانیت سکون کا سانس لے سکے، یہی انسانیت کی معراج ہے اور تب ہی ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت کا صحیح حق ادا کرسکتے ہیں۔۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺکی ایک ایک صفت اپنانے اور ایک ایک سنت زندہ کر نے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں